شرطوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 36 · 87 hadiths · Page 3 of 5

3928Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا رُبُعٍ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى. رَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعٍ فَاخْتَلَفَ عَلَى رَبِيعَةَ فِي رِوَايَتِهِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا: وہ کیا چیز ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے (بلا کرایہ) دیدے، لیکن اسے تہائی، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع ؓ سے روایت کیا ہے اور (حنظلہ سے روایت کرنے والے) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم)." He said that one of his paternal uncles came to them and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden me to do something that was beneficial for us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial." We said: "What is that?" He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever has land, let him cultivate it (himself) or give it to his brother to cultivate, and not lease it in return for one-third or one-quarter of the yield nor a specified amount of food (produce). Rafi’; and there is a difference over Rabi’ah’s narration of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3897
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٢٦ (صحیح )
3929Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي: أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیا ریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کرلیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع ؓ سے کہا: تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا؟ رافع ؓ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے جس میں چچا کا ذکر نہیں ہے) ۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "My paternal uncle told me that they used to lease land at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in return for what grew on the banks of the streams, and a share of the crop stipulated by the owner of the land. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade us that." I (Hanzalah) said to Rafi: "How about leasing it in return for Dinars and Dirhams?" Rafi said: "There is nothing wrong with (leasing it) for Dinars and Dirhams. Al-Awzá’I differed with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3898
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٢٦ (صحیح )
3930Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ، وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ. وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَلَى إِسْنَادِهِ، وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ.

حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیا ریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز (پر بٹائی) جس کی ضمانت دی جاسکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں (چچا کے نہ ذکر کرنے میں) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔

It was narrated that Hanzalah bin Qais Al-Ansari said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing land in return for Dinars and silver. He said: There is nothing wrong with that. During the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) they used to rent land to one another in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged - some areas of which might give good produce and some might give none at all - and the people did not lease land in any other way. So that was forbidden. But as for leases where the return is known and guaranteed, there is nothing wrong with that. (Sahih) Malik bin Anas was in accord with the chain, but he differed in the wordings.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3899
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٧ (٢٣٢٧)، ١٢ (٢٣٣٢)، ١٩(٢٣٤٦)، الشروط ٧ (٢٧٢٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٩ (١٥٤٧)، سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٢)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٩ (٢٤٥٨) (تحفة الأشراف: ٣٥٥٣)، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤٠، ١٤٢)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٩٣١-٣٩٣٣) (صحیح )
3931Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے، میں نے کہا: سونے، چاندی کے بدلے؟ کہا: نہیں (اس سے نہیں روکا ہے) ۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے۔ رہا سونا اور چاندی (کے بدلے کرایہ پر دینا) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔

It was narrated that Hanzalah bin Qais said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing land. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. I said: For gold or silver? He said: No, rather he forbade leasing it in return for what the land produces. As for gold and silver, there is nothing wrong with that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3900
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3932Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ: حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ. رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَفَعَهُ. كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ.

حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے سونے، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ زمین کا حق ہے۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

It was narrated that Hanzalah bin Qais said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing uncultivated land in return for gold and silver. He said: (It is) permissible and there is nothing wrong with that. That is the due of the land.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3901
Takhrij · تخریج
انظر أیضا حدیث رقم: ٣٩٣٠ (صحیح )
3933Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ أَرْضِنَا وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْرِي أَرْضَهُ بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ، وَالْأَقْبَالِ، وَأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ وَسَاقَهُ. رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا، اس وقت سونا اور چاندی (زیادہ) نہیں تھا۔ تو آدمی اپنی زمین کیا ریوں اور نالیوں پر ہونے والی پیداوار اور متعین چیزوں کے بدلے کرایہ پر دیتا تھا۔ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، اور اس میں زہری پر اختلاف ہوا ہے۔

It was narrated that Rafi’ bin KHadij said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us to lease our land. At that time there was no gold nor silver. A man would lease his land in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged, and in return for something specific.” (Sahih) And he quoted the rest of it. Salim bin ‘Abdullah bin ‘Umar reported it from Rafi’ bin KHadij, and there is a difference over Az Zuhri’s narration of it.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3902
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٣٠ (صحیح الإسناد )
3934Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ. تَابَعَهُ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ.

زہری سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ نے کہا، اور پھر اسی طرح روایت بیان کی، اور (اس روایت میں) عقیل بن خالد نے مالک کی متابعت کی ہے۔

It was narrated from Az Zuhri that Salim bin ‘Abdullah narrated something similar.(Sahih). ‘Uqail bin Khalid followed him up in that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3903
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧١)، مسند احمد (٣/٤٦٥، ١٤٣)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٩٣٥، ٣٩٣٦، ٣٩٣٩) (صحیح )
3935Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ، حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ.

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج ؓ زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے ان سے ملاقات کی اور کہا: ابن خدیج! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ ﷺ سے کیا نقل کرتے ہیں؟ تو رافع ؓ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤں کو (کہتے) سنا (ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: میں تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جاسکتی ہے، پھر عبداللہ بن عمر ؓ کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہوگی جسے وہ نہ جان سکے ہوں، چناچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔

Salim bin Abdullah narrated that Abdullah bin Umar used to lease his land until he heard that Rafi bin Khadij forbade leasing land. Abdullah met him and said: "O Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about leasing land?" Rafi said to Abdullah: "I heard two of my uncles, who had been present at Badr, telling the people in the house, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land." Abdullah said: "I knew that at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) land used to be leased." Then Abdullah was concerned that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had decreed something and he had not known about it, so he stopped leasing land. (Sahih) Shuaib bin Abi Hamzah narrated it in Mursal form.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3904
Notes · وضاحت
١ ؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج جب کہ آگے روایت آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3936Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍكَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا يَزْعُمُ شَهِدَا بَدْرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَمَّيْهِ.

زہری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج ؓ اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔

It was narrated that Az-Zuhri said: "We heard that Rafi bin Khadij used to narrate that his paternal uncles -whom he said had been present at Badr- (said) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. ‘Uthman bin Saeed reported it from Shuaib, but he did not mention his two uncles.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3905
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٣٤(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے )
3937Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: كَانَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ، وَكَانَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَافَقَهُ عَلَى إِرْسَالِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْحَارِثِ.

زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے تھے: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Shuaib: "Az-Zuhri said: Ibn Al-Musayyab used to say: There is nothing wrong with leasing land in return for gold and silver, and Rafi bin Khadij used to narrate that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade that. (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3906
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٥٨٠) (صحیح) (یہ روایت منقطع ہے، زہری کی رافع رضی الله عنہ سے ملاقات نہیں ہے، لیکن سابقہ متابعات کی وجہ سے صحیح ہے )
3938Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِابْنُ شِهَابٍ: فَسُئِلَ رَافِعٌ بَعْدَ ذَلِكَ: كَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ ؟، قَالَ: بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ مُسَمًّى، وَيُشْتَرَطُ أَنَّ لَنَا مَا تُنْبِتُ مَاذِيَانَاتُ الْأَرْضِ وَأَقْبَالُ الْجَدَاوِلِ. رَوَاهُ نَافِعٌ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ.

١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔ شرافع بن خدیج ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں: اس کے بعد رافع ؓ سے پوچھا گیا: وہ لوگ زمین کو کرائے پر کیوں کر اٹھاتے تھے؟ وہ بولے: غلے کی متعینہ مقدار کے بدلے میں اور اس بات کی شرط ہوتی تھی کہ ہمارے لیے وہ بھی ہوگا جو زمین میں کیا ریوں اور نالیوں پر پیدا ہوتا ہے۔ اسے نافع نے بھی رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے۔

It was narrated from Ibn Shihab that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land." Ibn Shihab said: "Rafi was asked after that: How did they lease land? He said: In return for a set amount of food (produce), and it was stipulated that we would have whatever grew on the banks of the streams and springs. Nafi’ reported it from Rafi’ bin KHadij, and there are differences over his narration of it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3907
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت بھی منقطع ہے، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے )
3939Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عُمُومَتَهُ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا فَأَخْبَرُوا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ كَانَ كُلُّ صَاحِبَ مَزْرَعَةٍ يُكْرِيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ لَهُ مَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي الَّذِي يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْمَاءُ، وَطَائِفَةٌ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هِيَ ؟. رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، فَقَالَ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.

نافع کا بیان ہے کہ رافع بن خدیج ؓ نے عبداللہ بن عمر ؓ کو خبر دی کہ ہمارے چچا لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، پھر واپس آ کر خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: ہمیں معلوم ہے کہ وہ (رافع) رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زمین والے تھے، اور اسے کرائے پر اس شرط پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس کی کیا ریوں کے کناروں پر جہاں سے پانی ہو کر گزرتا ہے پیدا ہوگا اور کچھ گھاس (چارہ) جس کی مقدار انہیں معلوم نہیں ان کی ہوگی۔ اسے ابن عون نے بھی نافع سے روایت کیا ہے لیکن اس میں (عمومتہ کے بجائے) بعض عمومتہ کہا ہے۔

Rafi bin Khadij told Abdullah bin Umar that his paternal uncles went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), then they came back and told them that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden leasing arable land. Abdullah said: "We knew that he owned some arable land that he leased at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in return for whatever grew on the banks of the streams of water, and for a certain amount of straw, I do not know how much it was." Ibn Awn reported it from Nafi but he said: "From some of his paternal uncles.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3908
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٣٥ (صحیح الإسناد )
3940Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ، فَبَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْءٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَى إِلَى رَافِعٍ، وَأَنَا مَعَهُ، فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ زمین کا کرایہ لیتے تھے، انہیں رافع بن خدیج ؓ کی کوئی بات سننے کو ملی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور رافع ؓ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا، تو رافع ؓ نے ان سے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے (یہ حدیث بیان کی) کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، اس کے بعد عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے ترک کردیا۔

It was narrated from Nafi: "Ibn Umar used to take rent for some land, then he heard something from Rafi bin Khadij. He took me by the hand and went off to Rafi, and I was with him. Rafi narrated to him from some of his paternal uncles, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land, so Abdullah stopped (doing that) afterward.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3909
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٢٦ (صحیح )
3941Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعٌ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَهَا بَعْدُ. رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُمُومَتَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ زمین کا کرایہ لیتے تھے، یہاں تک کہ رافع ؓ نے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اسے ترک کردیا۔ اسے ایوب نے نافع سے، انہوں نے رافع ؓ سے روایت کیا ہے اور ان کے چچاؤں کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔

It was narrated from Ibn Umar that he used to take rent for land until Rafi narrated to him, from some of his paternal uncles, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. So he stopped doing that afterward. Ayyub reported it from Nafi’, from Rafi’, and he did not mention: “His paternal uncles.”

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3910
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٢٦ (صحیح )
3942Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُخْبِرُ فِيهَا بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا، قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا. وَافَقَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ اپنے کھیت کرایہ پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ معاویہ ؓ کی خلافت کے آخری دور میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں رافع بن خدیج ؓ رسول اللہ ﷺ سے ممانعت نقل کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے، میں ان کے ساتھ تھا، انہوں نے رافع سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس کے بعد ابن عمر ؓ نے اسے ترک کردیا، پھر جب ان سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے کہ رافع ؓ کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ ایوب کی موافقت عبیداللہ بن عمر، کثیر بن فرقد اور جویریہ بن اسماء نے بھی کی ہے۔

It was narrated from Nafi that Ibn Umar used to lease out his arable land until he heard at the end of Muawiyahs Khilafah, that Rafi bin Khadij used to narrate, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden that. He went to him -and I (Nafi) was with him- and asked him (about that). He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) used to forbid leasing arable land." So Ibn Umar stopped (doing that) afterward. When he was asked about it he said: "Rafi bin Khadij said that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade that. ‘Ubaidullah bin ‘Umar, Kathir bin Farqad, and Juwairiyah bin Asma’ were in accord with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3911
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ٢٢ (٢٢٨٥)، الحرث ١٨ (٢٣٤٣)، صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٤٨)، سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٤ تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٨ (٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٦)، مسند احمد (٢/٦٤، ٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤/١٤٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٩٤٣-٣٩٤٦) (صحیح )
3943Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج ؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔

It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar used to lease arable land, then he was told that Rafi bin Khadij narrated from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) that he forbade that. Nafi said: "He went out to him (and met him) in Al-Balat, and I was with him. He asked him (about that) and he said: Yes, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing arable land. So Abdullah stopped leasing it.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3912
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد )
3944Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ حَدِيثًا، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ أَنَا، وَالرَّجُلُ الَّذِي أَخْبَرَهُ، حَتَّى أَتَى رَافِعًا فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَ الْأَرْضِ.

نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ کو بتایا کہ رافع بن خدیج ؓ زمین کو کرائے پر دینے کے سلسلے میں حدیث بیان کرتے ہیں، تو میں اور وہ شخص جس نے انہیں بتایا تھا ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ رافع ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ نے زمین کرائے پر اٹھانی چھوڑ دی۔

It was narrated from Nafi: "A man told Ibn Umar that Rafi bin Khadij had narrated a Hadith concerning leasing of land. He and I, along with the man who had told him that, went to Rafi, and he told us that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden leasing land. So Abdullah stopped leasing land.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3913
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد )
3945Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍحَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ.

نافع سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج ؓ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Nafi that Rafi bin Khadij told Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing arable land.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3914
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد )
3946Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْجُرُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ رَافِعًا ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى رَافِعٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ.

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج ؓ اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رافع ؓ کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے؟ رافع ؓ نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو ١ ؎۔

It was narrated from Nafi that he narrated: "Ibn Umar used to lease his land in return for some of its produce. Then he heard that Rafi bin Khadij warned against that. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade that. He said: We used to lease our land before we came to know Rafi. Then he (Ibn Umar) became unsure, so he put his hand on my shoulder and we went to Rafi. Abdullah said to him: Did you hear the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid leasing land? Rafi said: I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not lease land in return for anything.

شاذ بزيادة بشيءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3915
Notes · وضاحت
١ ؎: بشیٔ (کسی چیز کے بدلے) کا لفظ شاذ ہے، کیونکہ سونے چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کی بات صحیح اور ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٩٤٢ (شاذ) (اس روایت میں ” بشیٔ “ کا لفظ شاذ ہے، باقی باتیں صحیح ہیں )
3947Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَنَافِعٍ أخبراه، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ. وَاخْتُلِفَ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، اور (اس روایت میں ابن عمر ؓ سے رویت کرنے والے) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔

It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. Ibn ‘Umar reported it from Rafi’ bin KHadij, but there is disagreement is (reported from) ‘Amr bin Dinar (for it).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3916
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٥٧٩) (صحیح )