زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج ؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar used to lease arable land, then he was told that Rafi bin Khadij narrated from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) that he forbade that. Nafi said: "He went out to him (and met him) in Al-Balat, and I was with him. He asked him (about that) and he said: Yes, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing arable land. So Abdullah stopped leasing it.