Sunan An Nasai 3929

شرطوں سے متعلق احادیث

3929Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي: أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیا ریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کرلیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع ؓ سے کہا: تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا؟ رافع ؓ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے جس میں چچا کا ذکر نہیں ہے) ۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "My paternal uncle told me that they used to lease land at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in return for what grew on the banks of the streams, and a share of the crop stipulated by the owner of the land. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade us that." I (Hanzalah) said to Rafi: "How about leasing it in return for Dinars and Dirhams?" Rafi said: "There is nothing wrong with (leasing it) for Dinars and Dirhams. Al-Awzá’I differed with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3898
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٢٦ (صحیح )