Sunan An Nasai 3933

شرطوں سے متعلق احادیث

3933Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ أَرْضِنَا وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْرِي أَرْضَهُ بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ، وَالْأَقْبَالِ، وَأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ وَسَاقَهُ. رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا، اس وقت سونا اور چاندی (زیادہ) نہیں تھا۔ تو آدمی اپنی زمین کیا ریوں اور نالیوں پر ہونے والی پیداوار اور متعین چیزوں کے بدلے کرایہ پر دیتا تھا۔ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، اور اس میں زہری پر اختلاف ہوا ہے۔

It was narrated that Rafi’ bin KHadij said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us to lease our land. At that time there was no gold nor silver. A man would lease his land in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged, and in return for something specific.” (Sahih) And he quoted the rest of it. Salim bin ‘Abdullah bin ‘Umar reported it from Rafi’ bin KHadij, and there is a difference over Az Zuhri’s narration of it.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3902
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٣٠ (صحیح الإسناد )