عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ رافع بن خدیج ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Ibn Umar say: We used to sell grain before it was ripe and before it was evident that it was free of disease and blight (by means of Al-Mukhabarah). We did not see anything wrong with that, until Rafi bin Khadij said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden Al-Mukhabarah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3917
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخابرہ سے مراد: بٹائی کا وہی معاملہ ہے جس کی تشریح حدیث نمبر ٣٨٩٣ کے حاشیہ میں گزری، یعنی: زمین کے بعض خاص حصوں میں پیدا ہونے والی پیداوار پر بٹائی کرنا، نہ کہ مطلق پیدا وار کے آدھا پر، جو جائز ہے۔
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج ؓ نے (خلافت یزید کے) پہلے سال ١ ؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں (سفیان و ابن جریج) کی موافقت حماد نے کی ہے۔
Amr bin Dinar said: "I bear witness that I heard Ibn Umar asking about Al-Khibr (the agreement to Al-Mukhabarah) and he said: We did not see anything wrong with that, until Ibn Khadij told us earlier that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbidding Al-Khibr." Hammad bin Zaid was in accord with the two of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3918
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ معاویہ ؓ کے آخری دور خلافت کا ہے، اس لیے پہلے سال سے مراد یزید کی خلافت کا پہلا سال ہے۔ (واللہ اعلم )
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع ؓ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ عارم محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند عن حماد عن عمرو عن جابر روایت کیا ہے۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Ibn Umar say: We did not see anything wrong with Al-Khibr until last year, when Rafi said that the Prophet of Allah forbade it. ‘Arim differed with him; so he said: “From Hammad, from ‘Amr, from Jabir.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3919
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade leasing land. Muhammad bin Muslim At-Ta’ifI followed him up (in narrating it).
صحيح الإسناد
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بھی کرایہ پر دینے سے مراد زمین کے بعض حصوں کی پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینا ہے، نہ کہ روپیہ پیسے، یا سونا چاندی کے بدلے، جو کہ اجماعی طور پر جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٥١٨)، مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨٩) (صحیح) (اس کے راوی ” عارم محمد بن الفضل “ آخری عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور امام نسائی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی تھی، لیکن سابقہ متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور عن ابن عمر و جابر کہا ہے۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Mukhabarah, Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah. Sufyan bin ‘Uyainah combined the two Hadiths, so he said: “From Ibn ‘Umar and Jabir.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3920
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٥٦٥) (صحیح) (اس کے راوی ” محمد بن مسلم “ حافظہ کے قدرے کمزور تھے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر اور جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہوجانا واضح ہوجائے۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar and Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade selling fruits until it was clear that they were free of blemish, and (he forbade from) Al-Mukhabarah; leasing land in return for one-third or one-quarter (of the yield). Abu An-Najashi, ‘Ata’ bin Suhaib reported it, and disagreement is reported from him in it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3921
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو ۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور عن رافع عن ظہیر بن رافع کہا ہے۔
Rafi bin Khadij narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to Rafi: "Do you rent out your arable land?" I said: "Yes, O Messenger of Allah. We rent it out in return for one-quarter, and in return for (a number of) Wasqs of barley." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Do not do that. Cultivate it (yourselves), or lend it, or keep it. Al-Awza’i differed with him; he said: “From Rafi’, from Zuhair bin Rafi’.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3922
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس (ہمارے چچا) ظہیر بن رافع ؓ نے آ کر کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ کا حکم اور وہ سچا (برحق) ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو ۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Rafi said: "Zuhair bin Rafi came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me to do something that was convenient for us. I said: What was that? He said: The command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is true. He asked me: What do you do with your land? I said: We rent it out in return for one-quarter (of the yield) and a number of Wasqs of dates or barley. He said: Do not do that. Cultivate it, give it to someone else to cultivate, or keep it. Bukair bin ‘Abdullah bin AlAshajj reported it from Usaid bin Rafi’, and he reported it as a narration of Rafi’s brother.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3923
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٨(٢٣٣٩)، صحیح مسلم/البیوع ١٨(١٥٤٨)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٠(٢٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٩)، مسند احمد (١/١٦٨) (صحیح )
اسید بن رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رافع کے بھائی نے اپنے قبیلے سے کہا: آج رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے، جو تمہارے لیے سود مند تھی اور آپ کا حکم ماننا واجب، آپ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Usaid bin Rafi bin Khadij that the brother of Rafi said to his people: "Today the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something which was convenient for you, but following his command is an act of obedience (to Allah) and is good. He forbade Al-Haql.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3924
عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں (یعنی صحابہ کو) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Hurmuz said: "I heard Usaid bin Rafi bin Khadij Al-Ansari say that they did not allow Al-Muhaqalah, which is land that is cultivated in return for some of its produce. ‘Elsa bin Sahl bin Rafi’ reported it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3925
عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج ؓ کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا: اے ابا جان (دادا جان) ! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔
Eisa bin Sahl bin Rafi bin Khadij narrated: "I was an orphan in the care of my grandfather Rafi bin Khadij. I reached puberty and became a man, and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl bin Rafi bin Khadij came and said: O my father, we have leased our land to so and so (a woman) for two hundred Dirhams. He said: O my son, leave that (do not do it), for Allah will give you other provision. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3926
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢(٣٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٩) (شاذ) (اس کے راوی ” عیسیٰ بن سہل “ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے )
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج ؓ کی مغفرت فرمائے۔ اللہ کی قسم! میں یہ حدیث ان سے زیادہ جانتا ہوں، دو آدمی جھگڑ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو ، تو رافع نے آپ کا صرف یہ قول سن لیا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۔
It was narrated that ‘Urwah bin Az-Zubair said: “Zaid bin Thabit said: ‘May Allah forgive Rafi’ bin Khadij. By Allah, I have more knowledge of the Hadith than him. We were two men who fought and the Messenger of Allah ﷺ said: If this is how it is between you, then do not lease land. And he only heard the words: Do not lease land.” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: (this is an example of) A sharecropping contract based on the condition that the seeds and expenses be provided by the owner of the land, and the share cropper will have one-quarter of whatever Allah brings forth from the land: This contract was written by so and so the son of so and so the son of so and so, while he is still in good health, and in full control of his wealth. (It is addressed to) so and so the son of so and so; stating that you will give me all of your land that is situated in such and such location, in such and such city, to cultivate it on the basis of sharecropping. This is the (piece of) land that is known as such and such, defined by four boundaries that enclose the entire area (he defines the four boundaries). You have given to me all of the land defined in this contract, within the boundaries specified, and everything in it, water, rivers and streams, uncultivated, empty land with no crops planted therein, for a complete year, starting at the beginning of such and such month of such and such year, and ending at the end of such and such month of such and such year, on the basis that I will cultivate all of the land specified in this contract, the location of which is described herein, in the year described herein, from beginning to end. I may cultivate anything I want and see fit of wheat, barley, sesame, rice, cotton, fresh dates, herbs, chickpeas, beans, lentils, cucumbers, melons, carrots, radishes, onions, garlic, and any other kind of winter or summer produce, using your seeds which are all to be provided by you and not by me, on the basis that I will do the work myself, or with whomever I want of my helpers, and hired workers, my oxen, and my tools, and equipment. I will cultivate it and take care of it so that it will grow well and yield the best produce, plowing the land and clearing it of brush, supplying water and manure to those crops that need them, digging irrigation ditches, picking whatever needs to be picked, harvesting whatever needs to be harvested, gathering it, threshing and winnowing what needs to be threshed and winnowed. All of that will be done at your expense and not mine, and it will be done by me and my helpers, and not by you. From all that Allah brings forth from all of that, during the period specified in this contract, from beginning to end, you will have three quarters in return for you land, your water, your seeds and your spending, and I will have the remaining quarter of all that in return for my cultivation and labor, done by myself and my helpers. You have given me all the land of yours defined in this contract, with all its rights and facilities, and I have accepted all of that from you on such and such a day in such and such a month, of such-and-such a year. All of that has come under my control, but I do not own any of it, and I have no claim to any of it except this sharecropping as described in this contract, during the year described therein. Once that time ends, then it all reverts to you and to your control, and you have the right to expel me from it when that year is over, and to take it out of my control, and out of the control of anyone who had anything to do with it because of me. Signed by so and so and so and so. Two copies were made of this contract.
ضعيف
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3927
ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: بٹائی کے معاملات کو (اس طرح) لکھنا چاہیئے کہ بیج اور اس کا خرچ زمین کے مالک پر ہوگا اور کھیتی کرنے والے کے لیے کھیتی میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پیداوار کا چوتھائی حصہ ہوگا ١ ؎۔ یہ تحریر ہے جسے فلاں بن فلاں نے فلاں بن فلاں کے لیے لکھی ہے، صحت و تندرستی کی حالت میں لکھا اور اس حال میں جب اس کے احکام نافذ ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی ساری زمین جو فلاں مقام پر فلاں علاقے میں ہے مجھے بٹائی پر دی، اور یہ وہ زمین ہے جس کی پہچان یہ ہے: اس کی چوحدی یہ ہے کہ ان میں سے ایک فلاں مقام سے لگی ہوئی ہے، اسی طرح پھر دوسری، تیسری اور چوتھی حد بیان کرے۔ اس کتاب میں مذکور تمام حدود والی اپنی پوری زمین آپ نے مجھے دے دی۔ اور اس کے سارے حقوق، اس کا پانی، اس کی نہریں، اور نالیاں دے دیں، ایک ایسی زمین جو ہر چیز سے خالی ہے، نہ اس میں کھیتی ہے، نہ کوئی پودا، پورے ایک سال کے لیے جو فلاں سال، فلاں مہینے کی ابتداء سے شروع ہوگا، اور اس معاہدے کا اختتام فلاں سن کے فلاں مہینے کے خاتمے تک ہوگا۔ اس شرط پر کہ یہ پوری زمین جس کی حدیں اس معاہدہ میں بیان کی گئی ہیں اور جو فلاں مقام میں ہے اسے میں نے معینہ سال کے لیے شروع سے آخر تک کھیتی کے لیے لی، اور اس میں جب چاہوں اور جو چاہوں میں کھیتی کروں۔ گیہوں، جو، تل، چاول، روئی، کھجوریں، ساگ، چنا، لوبیا، مسور، کھیرا ککڑی، خربوزہ، گاجر، شلجم، مولی، پیاز، لہسن، یا ساگ یا بیل پھول وغیرہ، یعنی گرمی و سردی کے سارے غلے، اس طرح کہ بیج آپ کا ہوگا اور اس کی ساری محنت میری ہوگی، میرے ہاتھ کی یا اس کی جسے میں چاہوں اپنے دوستوں، مزدوروں اور بیل و ہل وغیرہ میں سے، میں اس میں کھیتی کروں گا، اسے آباد کروں گا اور ایسا کام کروں گا کہ اس سے نشو و نما ہو، وہ درست رہے، زمین میں ہل جوتوں گا، اس کی گھاس صاف کروں گا۔ اگی ہوئی کھیتی میں جسے پانی کی ضرورت ہوگی اس کی سینچائی کروں گا، اور جہاں کھاد کی ضرورت ہوگی کھاد ڈالوں گا، اس کی نالیاں اور نہریں کھودوں گا اور جو پھل توڑنا ضروری ہوگا اسے توڑوں گا۔ اور جس کھیتی کا کاٹنا ضروری ہوگا کاٹوں گا اور اکٹھا کروں گا اور جس فصل کی کٹائی ضروری ہوگی اسے کٹواؤں گا اور اس پر جو کچھ خرچ ہوگا وہ آپ کے ذمے ہوگا، نہ کہ میرے، اور یہ سب کام میں اپنے ہاتھ سے کروں گا یا اپنے مدد گاروں کے ذریعے نہ کہ آپ کی مدد سے، اس شرط پر کہ اس عہد نامے میں اس کے شروع سے لے کر آخر تک جو مدت ذکر کی گئی ہے اس پوری مدت میں جو اللہ تعالیٰ اس کھیت میں سے اگائے گا آپ کے لیے تین چوتھائی حصہ ہوگا، اس لیے کہ زمین آپ کی تھی، بیج آپ کا تھا اور خرچہ بھی آپ نے کیا تھا، اور میرے لیے اس پورے میں سے باقی چوتھائی حصہ ہوگا اس لیے کہ میں نے کھیتی کی، کام کیا اور اپنے ہاتھ سے اور اپنے کے مدد گاروں کے ہاتھ سے اسے سر کیا، اور آپ نے وہ پوری زمین جس کی حدود اس عہد نامے میں بیان کی گئی ہیں میرے حوالے کی، اس کے تمام حقوق اور لوازمات کے ساتھ اور میں نے یہ زمین آپ سے اپنے قبضے میں لی، فلاں سال کے فلاں ماہ کے فلاں دن سے۔ تو یہ پوری کی پوری میرے ہاتھ میں ہے جو آپ کی ہے، میری اس میں نہ کوئی ملکیت ہے اور نہ ہی کوئی دعویٰ اور نہ ہی کوئی مطالبہ، سوائے اس فصل اور پیداوار کے جو اس معینہ سال میں اس عہد نامے میں ذکر کی گئی ہے، اور جب مدت پوری ہوگی تو یہ پوری زمین آپ کو لوٹا دی جائے گی، وہ آپ کے ہاتھ میں ہوگی اور مدت گزرنے کے بعد آپ کو اختیار ہوگا کہ آپ مجھے اس میں سے نکال دیں اور اسے میرے ہاتھ سے نکال لیں اور ہر اس شخص کے ہاتھ سے جس کا میری وجہ سے اس میں کوئی دخل تھا۔ فلاں اور فلاں نے یہ طے کیا، اور عہد نامہ کی دو کاپیاں لکھی گئیں۔
Notes · وضاحت
بیج اور دیگر سارے اخراجات زمین کے مالک کی طرف سے اٹھانے کی صورت میں پیداوار کا تین حصہ مالک کا ہوگا اور ایک حصہ کاشت کار کا، اور اگر بیج اور دیگر سارے اخراجات کاشتکار برداشت کرے تو مالک کو پیداوار کا آدھا ملے گا، جیسا کہ خیبر کے معاملے میں اللہ کے رسول صلی للہ علیہ وسلم نے کیا تھا (دیکھئے حدیث نمبر ٣٩٦١١) ایسا بالکل نہیں ہے کہ بہر حال بیج و اخراجات صرف مالک پر ہوں تب ہی بٹائی کا معاملہ جائز ہے۔ جیسا کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے۔ مذکورہ حدیث سے ان کے قول کی تردید ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٠)، سنن ابن ماجہ/ الرہون ١٠(٢٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٠)، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدة “ لین الحدیث ہیں اور ” الولید بن ابی الولید “ ضعیف ہیں )
ابن عون کہتے ہیں کہ محمد (محمد بن سیرین) کہا کرتے تھے: میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کردیں اس شرط پر کہ وہ (کاشتکار) خود اپنے آپ، اس کے لڑکے، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ١ ؎۔
Ibn Awn said: "Muhammad used to say: In my view land is like the wealth put into a Mudarabah (limited partnership) contract. Whatever is valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, is valid with regard to land, and whatever is not valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, then it is not valid with regard to land." He said: "He did not see anything wrong with giving all of his land to the plowman on the basis that he would work with it himself, or with his children, and helpers, and oxen, and, that he would not spend anything on it; all expenses were to be paid by the owner of the land.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3928
Notes · وضاحت
١ ؎: بٹائی کی یہ ایک جائز صورت ہے، واجب نہیں بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ زمین کا مالک کچھ بھی خرچ نہ کرے، تمام اخراجات کاشتکار کرے اور آدھی پیداوار کا حقدار ہو جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہوگا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar, on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) would have half of whatever they produced.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3929
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١ (١٥٥١)، سنن ابی داود/البیوع ٣٥(٣٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ٨ (٢٣٢٨) (في سیاق أطول من ذلک) ٩ (٢٣٢٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٤١ (١٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٤ (٢٤٦٨)، مسند احمد (٢/١٧، ٢٢، ٣٧)، سنن الدارمی/البیوع ٧١ (٢٦٥٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہوگا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) would have half of their fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3930
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہوگی جو نالیوں اور نہروں کی کیا ریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔
It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar used to say: "Arable land used to be leased out at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) on condition that the owner of the land would have whatever grew on the banks of the streams and a share of straw, I do not know how much it was.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3931
عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میرے دو چچا تہائی اور چوتھائی پر کھیتی کرتے تھے اور میرے والد ان کے شریک ہوتے تھے۔ علقمہ اور اسود کو یہ بات معلوم تھی مگر وہ کچھ نہ کہتے تھے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Al-Aswad said: "Two of my paternal uncles used to cultivate (land) in return for one-third or one-quarter of the crop, and my father was their partner. Alqamah and Al-Aswad knew about that and did not change anything.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3932
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٩٥٣) (ضعیف الإسناد) (قاضی شریک ضعیف الحفظ اور ابواسحاق مختلط راوی ہیں )
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ شریح مضارب ١ ؎ کے سلسلے میں صرف دو طرح کے فیصلے دیتے تھے، کبھی مضارب سے کہتے کہ تم اس مصیبت پر گواہ لے کر آؤ جس کی وجہ سے تم معذور قرار دیئے جاؤ، اور کبھی صاحب مال سے کہتے: تم اس بات کا گواہ لے کر آؤ کہ تمہارے امین (مضارب) نے خیانت کی ہے۔ ورنہ اس سے اللہ کی قسم لی جائے گی کہ اس نے خیانت نہیں کی ہے۔
It was narrated that Muhammad said:
"I do not know that Shuraih ever ruled on Mudarabah disputes except in two ways. He would say to the Mudarib (the one who contributed his labor to the partnership): You must provide proof that a calamity befell you so that you may be excused. Or he would say to the one who invested his money in the partnership: You must provide proof that your trustee betrayed his trust, otherwise his oath sworn by Allah that he did not betray you is sufficient."
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3935
Notes · وضاحت
١ ؎: مضارب (راء کے زیر کے ساتھ) اسے کہتے ہیں جو کسی دوسرے کے مال سے تجارت کرے یعنی محنت اس شخص کی ہو اور پیسہ کسی اور کا۔