Sunan An Nasai 3958

شرطوں سے متعلق احادیث

3958Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حَجْرِ جَدِّي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَبَلَغْتُ رَجُلًا، وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَجَاءَ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ، إِنَّهُ قَدْ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، دَعْ ذَاكَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَجْعَلُ لَكُمْ رِزْقًا غَيْرَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ.

عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج ؓ کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا: اے ابا جان (دادا جان) ! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔

Eisa bin Sahl bin Rafi bin Khadij narrated: "I was an orphan in the care of my grandfather Rafi bin Khadij. I reached puberty and became a man, and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl bin Rafi bin Khadij came and said: O my father, we have leased our land to so and so (a woman) for two hundred Dirhams. He said: O my son, leave that (do not do it), for Allah will give you other provision. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3926
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢(٣٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٩) (شاذ) (اس کے راوی ” عیسیٰ بن سہل “ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے )