Sunan An Nasai 3948

شرطوں سے متعلق احادیث

3948Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ رافع بن خدیج ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Ibn Umar say: We used to sell grain before it was ripe and before it was evident that it was free of disease and blight (by means of Al-Mukhabarah). We did not see anything wrong with that, until Rafi bin Khadij said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden Al-Mukhabarah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3917
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخابرہ سے مراد: بٹائی کا وہی معاملہ ہے جس کی تشریح حدیث نمبر ٣٨٩٣ کے حاشیہ میں گزری، یعنی: زمین کے بعض خاص حصوں میں پیدا ہونے والی پیداوار پر بٹائی کرنا، نہ کہ مطلق پیدا وار کے آدھا پر، جو جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٤٧)، سنن ابی داود/ البیوع ٣١ (٣٣٨٩)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٨ (٢٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٦)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٢/١١، ٣/٤٦٣، ٤٦٥، ٤/١٤٢) (صحیح )