زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْجُرُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ رَافِعًا ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى رَافِعٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج ؓ اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رافع ؓ کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے؟ رافع ؓ نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو ١ ؎۔
It was narrated from Nafi that he narrated: "Ibn Umar used to lease his land in return for some of its produce. Then he heard that Rafi bin Khadij warned against that. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade that. He said: We used to lease our land before we came to know Rafi. Then he (Ibn Umar) became unsure, so he put his hand on my shoulder and we went to Rafi. Abdullah said to him: Did you hear the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid leasing land? Rafi said: I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not lease land in return for anything.