نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr when the sun was still high and bright, and a person could go to Al-‘Awali when the sun was still high.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 507
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، مسند احمد ٣/ ٢٢٣ (صحیح )