سردی کے موسم میں نماز ظہر میں جلدی کرنا
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ نماز ١ ؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ٢ ؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔
Khalid bin Dinar Abu Khaldah said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘When it was hot, the Messenger of Allah ﷺ would wait until it cooled down to pray, and when it was cold he would hasten to pray.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 499
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے صلاة کی تفسیر جمعہ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس ؓ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ الصلاة سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ٢ ؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہوجاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٧ (٩٠٦)، وفیہ ” یعنی الجمعة “، (تحفة الأشراف: ٨٢٣) (صحیح )