یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا: استبرق کیا ہے؟ میں نے کہا: ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے، وہ بولے: میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر ؓ نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا، اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی۔
Yahya - bin Ishaq - said: "Salim said: What is Al-Istabraq? I said: A thick type of Ad-Dibaj, and a coarse type of it. He said: I heard Abdullah (bin Umar) say: "Umar saw a Hullah of Sundus with a man, and he brought it to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Buy this" and he quoted the Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5300
عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان ؓ نے پانی مانگا تو ایک اعرابی (دیہاتی) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، حذیفہ ؓ نے اسے پھینک دیا، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا: مجھے اس سے روکا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم، کیونکہ یہ ان (کفار و مشرکین) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں ۔
It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "Hudhaifah asked for some water and the chief brought water in a silver vessel. He threw it aside, then he apologized to them for what he had done, and said: I told him before not to do that. I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not drink from vessels of gold and silver, and do not wear Ad-Dibaj or silk. They are for them in this world, and for you in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5301
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ ﷺ نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے کی کاریگری تھی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے پہنا، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس پر تعجب ہے؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو ١ ؎۔
It was narrated that Waqid bin Amr bin Sad bin Muadh said: "I entered upon Anas bin Malik (RA) when he came to Al-Madinah and greeted him with Salam. He said: Where are you from? I said: I am Waqid bin Amr bin Sad bin Muadh. He said: Sad was the greatest and most virtuous of people. Then he wept a great deal, then he said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sent a delegation to Ukaidir the ruler of Dumah, who sent him a Jubbah made of Ad-Dibaj interwoven with gold. The Messenger of Allah put it on, then he stood on the Minbar and sat, without speaking, then he came down and the people started touching it with their hands. He said: Are you admiring this? The handkerchiefs of Sad in Paradise are more beautiful than what you see.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5302
Notes · وضاحت
١ ؎: دیبا نامی ایسا ریشمی کپڑا پہننا منسوخ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر ؓ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے ، اتنے میں عمر ؓ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے ، چناچہ عمر ؓ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔
Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a Qaba of Ad-Dibaj that had been given to him, but he soon took it off and sent it to Umar. It was said to him: How soon you took it off, O Messenger of Allah. He said: Jibril, peace be upon him, prohibited me from wearing it. Then Umar came weeping and said: O Messenger of Allah, you disliked something but you gave it to me. He said: I did not give it to you to wear it, rather I gave it to you to sell it. So Umar sold it for two thousand Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5303
ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: محمد ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا ١ ؎۔
Abdullah bin Az-Zubair said, while he was on the Minbar delivering a Khutbah: "Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever wears silk in this world, will not wear it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5304
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم پہننا جائز ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ١٥٥١ میں گزرا۔
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ١ ؎۔
Khalifah said: "I heard Abdullah bin Az-Zubair say: Do not let your womenfolk wear silk, for I heard Umar bin Al-Khattab say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever wears it in this world will not wear it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5305
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبداللہ بن زبیر ؓ کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول ﷺ نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے، واللہ اعلم۔
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عائشہ ؓ سے پوچھ لو، چناچہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا تو وہ بولیں: عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ابوحفص (عمر) ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ١ ؎۔
Imran bin Hittan narrated that : He asked Abdullah bin Abbas about wearing silk. He said: "Ask Aishah (RA)." "So I asked Aishah (RA) and she said: Ask Abdullah bin Umar. So I asked Ibn Umar and he said: Abu Hafs told me, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever wears silk in this world will have no share in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5306
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بطور زجر و تہدید ہے، جو صرف مردوں کے لیے حرام ہیں، البتہ سونے چاندی کے برتن، اور ریشمی زین دونوں کے لیے حرام ہیں۔
علی بارقی ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا: یہ ابن عمر ؓ ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی: مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ali Al-Bariqi said: "A woman came to me to ask a question, and I said to her: There is Ibn Umar. So she went after him to ask him, and I went after her to hear what he would say. She said: Tell me about silk. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5308
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) enjoined seven things upon us, and forbade seven things for us. He forbade to us gold rings, silver vessels, Al-Mayathir, Al-Qassiyah, Al-Istabraq, Ad-Dibaj, and silk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5309
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام ؓ کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہوگئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ١ ؎۔
It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession to Abdur-Rahman bin Awf and Az-Zubair bin Al-Awwam allowing them to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5310
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اجازت عذر (کھجلی) کی بنا پر تھی، اس لیے صرف عذر تک کی اجازت رہے گی، عذر ختم ہوجانے کے بعد ایسی قمیص نکال دینی ہوگی، یہ پوری قمیص پہننے کے بارے میں ہے، اور جہاں تک صرف ریشم کے بٹن کی بات ہے تو یہ مردوں کے لیے ہر حالت میں جائز ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣١٤ )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن اور زبیر ؓ کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہوگئی تھی۔
It was narrated from Anas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession to Abdur-Rahman and Az-Zubair to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5311
ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ عمر ؓ کا فرمان آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا اس میں سے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اتنا ، ابوعثمان نے انگوٹھے کے پاس والی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے کہا، میں نے دیکھا وہ طیلسان کے کپڑوں کے چند بٹن تھے، یہاں تک کہ میں نے طیلسان کا کپڑا بھی دیکھا۔
It was narrated from Jarir from Sulaiman At-Taimi, from Abu Uthman A-Nahdi, who said: "We were with Utbah bin Farqad when the letter of Umar came, saying that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No one wears silk except one who has no share of it in the Hereafter, except this much." And Abu Uthman gestured with the two fingers that are next to the thumb. And I saw the two of them pointing to the borders of the Tayalisah, so that I could see the Tayalisah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5312
براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لال جوڑا ١ ؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے، نہ آپ کے بعد۔
It was narrated that Al-Bara said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a red Hullah, with his hair combed, and I have never seen anyone before or since, who was more handsome than he.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5314
Notes · وضاحت
١ ؎: متعدد صحیح احادیث میں یہ بات صراحت کے ساتھ آئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مردوں کے لیے لال رنگ کو ناپسند فرمایا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣١٨ ، اور بعد کی حدیثیں) آپ کی مذکورہ چادر میں تھوڑی سی لال رنگ کی ملاوٹ تھی، یا لال رنگ سے آپ نے اس کے بعد منع فرمایا تھا۔ (لال رنگ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے دیکھئیے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح، کتاب اللباس، باب الثوب الأحمر)۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو ۔
Abdullah bin Amr narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw him wearing two garments dyed with safflower and he said: "This is the clothing of disbelievers; do not wear it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5316
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ غصہ ہوئے اور فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو ۔ وہ بولے: کہاں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: آگ میں ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that: He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing two garments dyed with safflower. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got angry and said: "Go and take them off." He said: "Where should I throw them, O Messenger of Allah?" He said: "In the fire.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5317
Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی سے، ریشمی کپڑوں سے، زعفرانی رنگ کے لباس سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me from wearing gold rings, and from wearing Al-Qassiyah garments, and garments dyed with safflower, and reciting Quran while I am bowing.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5318