انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا ہے، لہٰذا اب کوئی ایسا نقش نہ کرائے ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: We have had a ring made with an inscription, and no one else should copy this inscription.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5281
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٢ (٢٠٩٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٩ (٣٦٤٠)، (تحفة الٔاشراف: ٩٩٩)، مسند احمد (٣/٢٩٠) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر نقش کرایا ہے، لہٰذا ایسا نقش کوئی نہ کرائے ، گویا میں اس کی چمک رسول اللہ ﷺ کی چھنگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated from Anas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had a ring and he said: "We have had a ring made with an inscription, and no one else should copy this inscription." It is as if I can see its shining on the little finer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5282
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بولے: گویا میں آپ ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ١ ؎۔
Thabit narrated that : They asked Anas about the ring of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "It is as if I can see the shining of his silver ring, and he raised his left little finger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5285
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ ﷺ انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٠)، اللباس ١٦ (٢٠٩٥)، (تحفة الٔاشراف: ٣٣٣)، مسند احمد (٣/٢٧٦) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء ٣/٢٩٨، ٣٠٢، وتراجع الالبانی ١٥٩ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے شہادت اور بیچ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Burdah said: "I heard Ali say: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me to wear a ring on the forefinger and middle finger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5286
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی خلافِ اولیٰ ہے، بہتر یہ ہے کہ ان انگلیوں میں نہ پہنا جائے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس (شہادت کی) انگلی میں، بیچ کی انگلی اور اس سے لگی ہوئی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے روکا ہے۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me to wear (a ring) on this finger," and it was on the middle finger and the one next to it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5287
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے، پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی، اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کرایا، پھر فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر کچھ نقش کرائے ، آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا تھا۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wore a ring of gold, then he discarded it and wore a ring of silver on which were engraved (the words) Muhammad Rasul Allah. Then he said: No one should copy this inscription of mine. And he wore the stone (Fass) toward his palm.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5288
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا، اور فرمایا: اس نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں ، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی۔
It was narrated from Ibn Abbas that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took a ring and put it on, then he said: "This distracted me from you all day, shifting my gaze from it to you (and back again)." Then he threw it away.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5289
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے، تو لوگوں نے بھی (انگوٹھیاں) بنوائیں، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا ، پھر آپ نے اسے پھینک دی، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had a ring made of gold and he used to wear it with the stone (Fass) against his palm, and the people did likewise. Then he sat on the Minbar and said: "I used to wear this ring and put its stone (Fass) on the inside." Then he threw it away and said: "By Allah, I will never wear it again." And the people threw their rings away.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5290
انس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی ١ ؎ صرف ایک دن دیکھی، تو لوگوں نے بھی بنوائی اور اسے پہنا، پھر نبی اکرم ﷺ نے پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔
It was narrated from Anas that: He saw a ring of silver on the hand of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one day, and the people made and wore similar rings. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) threw his ring away and the people threw their rings away too.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5291
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، پھر آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں، اور رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس سے آپ (خطوط پر) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold, and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings of gold too. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) threw it away, and the people threw their rings away too. Then he took a ring of silver and he used to seal letters with it, but he did not wear it.
صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5292
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٢٢١ (صحیح) (اس میں لفظ ” ولا یلبسہ “ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ، پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر ؓ کے ہاتھ میں رہی، پھر عمر ؓ کے ہاتھ میں، پھر عثمان ؓ عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہوگئی۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings too. Then the Messenger of Allah threw it away and said: "I will never wear it again." Then the Messenger of Allah took a ring of silver, and wore it on his hand. Then it was on the hand of Abu Bakr, then on the hand of Umar, then on the hand of Uthman, until it was lost in the well of Aris.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5293
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I entered upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw me looking scruffy. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you have anything? He said: Yes, Allah has given me all kinds of wealth. He said: If you have wealth, let it be seen on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5294
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے (تو اچھا ہوتا) ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، بلکہ کسی (اور) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے ، تو عمر ؓ نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔
It was narrated from Umar bin Al-Khattab that: He saw a Hullah of Sira silk being offered for sale at the door of the Masjid. I said: "O Messenger of Allah, why dont you buy this and wear it on Fridays, and (when meeting) the delegations when they come to you?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is only worn by one who has no share in the Hereafter." After that some (other) Hullahs were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave me one. He said: "O Messenger of Allah, you gave me this when you said what you said about it!" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I did not give it to you to wear it! Rather I gave it to you to give away or to sell." So Umar gave it to a brother of his son on his mothers side who was an idolater.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5295
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے عمر ؓ کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیٹی زینب ؓ کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا۔
It was narrated that Anas said: "I saw Zainab, the daughter of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), wearing a Qamis of Sira.
شاذ والمحفوظ أم کلثوم مکان زينبصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5296
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩(٣٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٠) (شاذ) (صحیح نام ” ام کلثوم “ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں )
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ام کلثوم ؓ کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: He saw Umm Kalthum, the daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), wearing a Burdah of Sira silk, and Sira is a fabric with stripes of silk
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5297
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چناچہ آپ نے فرمایا: سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
Ali said: "A Hullah of Sira was given to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he sent it to me. I put it on, then I saw anger in his face. He said: I did not give it to you to wear it. Then he told me to divide it among my womenfolk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5298
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے، آپ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے۔ آپ نے فرمایا: یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا ، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر ؓ کو دی، ایک علی ؓ کو اور ایک اسامہ ؓ کو دی، عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا؟ آپ نے فرمایا: اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرلو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو ۔
Ibn Umar narrated that: Umar went out and saw a Hullah of Al-Istabraq being offered for sale in the marketplace. He went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, buy this and wear it on Fridays, and when the delegations come to you." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is only worn by the one who has no share (in the Hereafter)." Then three Hullahs (of the same fabric) were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave one to Umar, one to Ali and one to Usamah. He (Umar) came to him and said: "O Messenger of Allah, you said what you said about it, then you sent one to me!" He said: "Sell it and spend the money on your needs, or cut it into pieces for your womenfolk to use as head covers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5299