Sunan An Nasai 5391

کتاب اداب القضاة

5391Sunan An Nasai

مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ إِلَّا مُعْتَرِضًا أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّي عَنْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَضَيْتِيهِ.

فضل بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ کو) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، آپ کے پاس قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور بولی: اللہ کے رسول! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر کافی بڑھاپے میں واجب ہوا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ انہیں باندھ دیا جائے، تو کیا میں ان کی جانب سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرلو۔ اس لیے کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو وہ بھی تم ہی ادا کرتیں ١ ؎۔

It was narrated from Al-Fadl bin Abbas that: He was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the morning of the Day of Sacrifice, when a woman from Khatham came to him and said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man and cannot ride unless he is tied crossways on a mount; can I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes, perform Hajj on his behalf, for if he owed a debt you would pay it off for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5389
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا اس مثال کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس عورت پر اس کے معذور باپ کے اوپر فرض حج کی ادائیگی کا فیصلہ دیا، اسی طرح دنیا کی ہر عدالت میں اشباہ و نظائر کے سہارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٣ (١٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٧١ (١٣٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٨٥ (٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٢٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٨)، مسند احمد (١/٢١٢، ٣١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٣ (١٨٧٣، ١٨٧٤) (صحیح )