جو کوئی قاضی بننے کی آرزو کرے اس کو کبھی قاضی نہ بنایا جائے
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقَالُوا: اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَاعْتَذَرْتُ مِمَّا قَالُوا، وَأَخْبَرْتُ أَنِّي لَا أَدْرِي مَا حَاجَتُهُمْ فَصَدَّقَنِي، وَعَذَرَنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا بِمَنْ سَأَلَنَا.
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس قبیلہ اشعر کے کچھ لوگوں نے آ کر کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلئے، ہمیں کچھ کام ہے، چناچہ میں انہیں لے کر گیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم سے اپنا کوئی کام لیجئیے ١ ؎ میں نے آپ سے ان کی اس بات کی معذرت چاہی اور بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی غرض کیا تھی، چناچہ آپ نے میری بات کا یقین کیا اور معذرت قبول فرما لی اور فرمایا: ہم اپنے کام (عہدے) میں ایسے لوگوں کو نہیں لگاتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Musa said: "Some people from among the Asharis came to me and said: Go with us to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), for we have something to ask him. So I went with them, and they said: O Messenger of Allah, use us to do your work." Abu Musa said: "I apologized for what they said, and I told him that I did not know what they were going to ask. He believed me and excused me, and said: We do not appoint for our work anyone who asks for that.