زیر نظر حدیث میں حضرت یحیی بن ابی اسحق پر اختلاف
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَفَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میرے والد پر حج فرض ہوگیا ہے، اور وہ اس قدر بوڑھے ہوگئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرلوں؟ آپ نے فرمایا: اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرلو ۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "The (command to perform) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle, and if I tie him, I fear that he may die. Can I perform Hajj on his behalf?" He said: "Do you think that if he owed a debt you would pay it off for him?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your father.