کتاب اداب القضاة

Sunan An Nasai · Chapter 49 · 49 hadiths · Page 2 of 3

5401Sunan An Nasai

علماء جس امر پر اتفاق کریں اس کے مطابق حکم کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ.

شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر ؓ سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا: فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ (قرآن) میں ہے، اور اگر وہ کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو سنت رسول (حدیث) کے مطابق، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول (حدیث) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول ﷺ میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو (اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو (فیصلہ نہ کرو) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ والسلام علیکم۔

It was narrated from Shuraih that: He wrote to Umar, to ask him (a question), and Umar wrote back to him telling him: "Judge according to what is in the Book of Allah. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, then (judge) according to the Sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). If it is not (mentioned) in the Book of Allah or the Sunnah of the Messenger of Allah, then pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, or the Sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the righteous did not pass judgment concerning it, then if you wish, go ahead (and try to work it out by yourself) or if you wish, leave it. And I think that leaving it is better for you. And peace be upon you.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5399
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩١٩٧) (صحیح الإسناد )
5402Sunan An Nasai

آیت کریمہ|"ومن لم یحکم بما انزل اللہ الآیہ کی تفسیر سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، ، وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ، إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44، وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ، فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ، أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا، فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ، وَصَدَّقُوهُ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28، أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى، وَبِالتَّوْرَاةِ، وَالْإِنْجِيلِ، وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ، وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا: ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چناچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا: قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے: تمہارا اس سے کیا مقصد ہے؟ ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے لیے ایک مینار بنادو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں چھوڑ دو، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنادو، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: ورهبانية ابتدعوها ما کتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید: ٢٧ ) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته اے لوگو! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید: ٢٩ ) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد ﷺ پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا: وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "There were kings after Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them. So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: Why do you want us to change? Leave us alone. Some of them said: Build us a tower and let us go up there, and give us something to lift up our food and drink so we do not have to mix with you. Others said: Let us go and wander throughout the land, and we will drink as the wild animals drink, and if you capture us in your land, you may kill us. Others said: Build houses for us in the wilderness, and we will dig wells and grow vegetables, and we will not mix with you or pass by you, for there is no one of the tribes among whom we do not have close relatives. So they did that, and Allah revealed the words: But the monasticism which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance. Then others said: We will worship as so-and-so worshipped, and we will wander as so-and-so wandered, and we will adopt houses (in the wilderness) as so-and-so did. But they were still following their Shirk with no knowledge of the faith of those whom they claimed to be following. When Allah sent the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and they were only a few of them left, a man came down from his cell, and a wanderer came from his travels, and a monk came from his monastery, and they believed in him. And Allah said: O you who believe! Fear Allah, and believe in His Messenger (Muhammad), He will give you a double portion of His mercy - meaning, two rewards, because of their having believed in Isa and in the Tawrah and Injil, and for having believing in Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم); and He will give you a light by which you shall walk (straight), - meaning, the Quran, and their following the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم); and He said: So that the people of the Scripture (Jews and Christians) may know that they have no power whatsoever over the Grace of Allah.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5400
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٥٧٥) (صحیح الإسناد )
5403Sunan An Nasai

قاضی کا ظاہر شرع پر حکم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ١ ؎، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔

It was narrated from Umm Salamah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You refer your disputes to me, but I am only human, and some of you may be more eloquent in arguing their case than others. If I pass judgment in favor of one of you, against his brothers rights, let him not take it, for it is a piece of fire that I am giving him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5401
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ١٦ (٢٤٩٨)، الشہادات ٢٧ (٢٦٨٠)، الحیل ١٠ (٦٩٦٧)، الأحکام ٢٠ (٧١٦٩)، ٢٩ (٧١٨١)، صحیح مسلم/الأقضیة ٣ (١٧١٣)، سنن ابی داود/الأقضیة ٧ (٣٥٨٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١١ (١٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣١٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦١)، موطا امام مالک/الأقضیة ١(١)، مسند احمد (٦/٢٠٣، ٢٩٠، ٣٠٧، ٣٠٨)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٤٢٤ (صحیح )
5404Sunan An Nasai

حاکم اپنی عقل سے فیصلہ کرسکتا ہے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ، فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى: فَخَرَجَتَا إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا، تو اس نے دوسری سے کہا: وہ تمہارا بچہ لے گیا، دوسری بولی: تمہارا بچہ لے گیا، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر وہ دونوں سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ایک چھری لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کردیتا ہوں، چھوٹی بولی: ایسا نہ کیجئیے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، وہ اسی کا بیٹا ہے، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام سکین نہیں سنا، ہم) تو اسے مدیہ کہا کرتے تھے۔

Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There were two woman who had two children, and the wolf came and took away the son of one of them. She said to her companion: It took away your son. The other one said: No, it took away your son. They referred the matter to Dawud علیہ السلام, for judgment (about the remaining child) and he ruled in favor of the older one. Then they went out to Sulaiman bin Dawud علیہما السلام and told him (about that). He said: Give me a knife and I will cut him in half (to be shared) between you. The younger one said: Do not do that, may Allah have mercy on you; he is her son. So he ruled that (the child) belonged to the younger woman." Abu Hurairah said: "By Allah! I never heard Sikkin used until that day. We would only say: Mudyah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5402
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الَٔنبیاء ٤٠ (٣٤٢٧)، والفرائض ٣٠ (٦٧٦٩)، (تحفة الُٔشراف: ١٣٧٢٨)، مسند احمد ٢/٣٢٢٢٢، ٣٤٠، وانظر حدیث رقم: ٥٤٠٥، ٥٤٠٦ (صحیح )
5405Sunan An Nasai

قاضی و حاکم کے لئے اس کی گنجائش کہ جو کام نہ کرنا ہو اس کو ظاہر کرے کہ میں یہ کام کروں گا تاکہ حق ظاہر ہو جائے

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا، فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْرُكُمَا ؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا، قَالَ: هُوَ ابْنُكِ فَقَضَى بِهِ لَهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، پھر وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں، وہ بولے: تم دونوں کا کیا قضیہ ہے؟ چناچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: چھری لاؤ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ١ ؎، چھوٹی عورت بولی: کیا آپ اسے کاٹیں گے؟ کہا: ہاں، وہ بولی: ایسا نہ کیجئیے، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا: یہ تمہارا بیٹا ہے، چناچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کردیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two women went out with two children of theirs, and the wolf attacked one of them and took her child. The next day they referred their dispute over the remaining child to Dawud علیہ السلام, and he ruled that (the child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman علیہ السلام and he said: What is your story? So they told him. He said: Bring me a knife and I will cut him in half (to be shared) between you. The younger one said: Will you cut him in half? He said: Yes. She said: Do not do that; I will give my share of him to her. He said: He is your child and he ruled that he belonged to her.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5403
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہوسکتی تھی؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الَٔقضیة ١٠ (١٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٧) (صحیح )
5406Sunan An Nasai

ایک حاکم اپنے برابر والے کا یا اپنے سے زیادہ درجہ والے شخص کا فیصلہ توڑ سکتا ہے اگر اس میں غلطی کا علم ہو

أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا ؟ قَالَتْ: قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ، قَالَتِ الْكُبْرَى: نَعَمِ، اقْطَعُوهُ. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا؟ (چھوٹی) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا: میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہوگا، بڑی عورت بولی: ہاں! آپ اسے کاٹ دیں، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا: ایسا نہ کیجئیے، یہ بچہ اسی کا ہے، چناچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two women went out with their two children, and the wolf took one of the children from them. They referred their dispute to Prophet Dawud علیہ السلام, and he ruled that (the remaining child) belonged to the older woman. Then they passed by Sulaiman علیہ السلام, and he said: How did he judge between you? She said: He ruled that (the child) belongs to the older woman. Sulaiman علیہ السلام said: Cut him in half, and give half to one and half to the other. The older woman said: Yes, cut him in half. The younger woman said: Do not cut him, he is her child. So he ruled that the child belonged to the woman who refused to let him be cut.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5404
Notes · وضاحت
١ ؎: سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے باپ داود (علیہ السلام) کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٤٠٤ (صحیح )
5407Sunan An Nasai

جب کوئی حاکم ناحق فیصلہ کر دے تو اس کو رد کرنا صحیح ہے

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: فَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمُنَا، أَمَرَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ صُنْعُ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ، قَالَ زَكَرِيَّا فِي حَدِيثِهِ فَذُكِرَ، وَفِي حَدِيثِ بِشْرٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کیا، خالد ؓ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ اچھی طرح اسلمنا ہم اسلام لائے نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگی: ہم نے اپنا دین چھوڑا، چناچہ خالد ؓ نے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہر شخص کو اس کا قیدی حوالے کردیا، جب صبح ہوئی تو خالد ؓ نے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا قیدی قتل کرنے کا حکم دیا، ابن عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی (میرے ساتھیوں میں سے) کوئی دوسرا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور خالد ؓ کی اس کارروائی کا آپ سے ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی) : اے اللہ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو خالد نے کیا ١ ؎۔ بشر کی روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے بَری ہوں جو خالد نے کیا ہے ، ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent Khalid bin Al-Walid to Banu Jadhimah. He called them to Islam, but they could not say Aslamna (we submitted, i.e., became Muslim) so they started to say Sabana (we changed our religion). Khalid started killing and taking prisoners, and he gave a prisoner to each man. The next day Khalid bin Al-Walid issued orders that each man among us kill his prisoner." Ibn Umar said: "I said: By Allah, I will not kill my prisoner, and no one (among my companions) will kill his prisoner. We came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he was told of what Khalid had done. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I disavow what Khalid has done, twice.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5405
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی باب سے مناسبت ہے، آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے فیصلہ کو رد کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٨ (٤٣٣٩)، الٔمحکام ٣٥ (٧١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٦٩٤١)، مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح )
5408Sunan An Nasai

کون سی باتوں سے (قاضی و) حاکم کو بچنا چاہیے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي، وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.

عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Bakrah said: "My father wrote to Ubaidullah bin Abi Bakrah - who was the judge of Sijistan - saying: Do not pass judgment between two people when you are angry, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No one should pass judgment between two people when he is angry.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5406
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔنحکام ١٣ (٧١٥٨)، صحیح مسلم/الِٔقضیة ٧ (١٧١٧)، سنن ابی داود/الٔدقضیة ٩ (٣٥٨٩)، سنن الترمذی/الْٔحکام ٧ (١٣٣٤)، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام ٤ (٢٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٦)، مسند احمد (٥/٣٦، ٣٧، ٣٨، ٤٦، ٥٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٤٢٣ (صحیح )
5409Sunan An Nasai

جو حاکم ایماندار ہو تو وہ بحالت غصہ فیصلہ کرسکتا ہے

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ، كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلَاهُمَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ عَلَيْهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ، اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَاسْتَوْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ فِيهِ السَّعَةُ لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيُّ اسْتَوْفَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: لَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65. وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.

زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص سے جو بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوا تھا حرہ کی نالیوں کے سلسلہ میں ان کا جھگڑا ہوگیا۔ وہ دونوں ہی اس سے اپنے کھجوروں کے باغ کی سنیچائی کرتے تھے۔ انصاری نے کہا: پانی چھوڑ دو وہ اس سے گزر کر چلا جائے، انہوں نے پانی چھوڑنے سے انکار کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زبیر! پہلے سنیچائی کرو، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا وہ بولا: اللہ کے رسول! وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی زاد (بھائی) ہیں نا؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ١ ؎، پھر فرمایا: زبیر! سینچائی کرو، پھر پانی اس قدر روکو کہ میڈوں تک ہوجائے ، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دلایا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے جو مشورہ دیا تھا اس میں ان کا بھی فائدہ تھا اور انصاری کا بھی۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ کو انصاری نے غصہ دلایا تو آپ نے زبیر ؓ کو صریح حکم دے کر ان کا حق دلا دیا۔ زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم نہیں، آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم تسلیم نہ کرلیں (النساء: ٦٥ ) (اس حدیث کے دو راوی ہیں) اس واقعہ کو بیان کرنے میں ایک کے یہاں دوسرے کے بالمقابل کچھ کمی بیشی ہے۔

It was narrated from Az-Zubair bin Al-Awwam that: He disputed with a man among Ansar who had been present at Badr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), concerning a stream in Al-Harrah from which they both used to water their date palm trees. The Ansari said: "Let the water flow." But he (Az-Zubair) refused. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Irrigate (your land), O Zubair! Then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said, "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair! Irrigate (your land) then block the water, until it flows back to the walls." So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed Az-Zubair to take his rights in full, although before that he had suggested to Az-Zubair a middle way that benefited both him and the Ansari. But when the Ansari made the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) angry, he gave Az-Zubair his rights in full, as stated clearly in his ruling. Az-Zubair said: "I think that this Verse was revealed concerning this matter: But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5407
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی باب سے مطابقت ہے کہ غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ صادر فرمایا، چونکہ آپ امین تھے اس لیے آپ کو غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کرنے کا حق تھا، عام قاضیوں کو یہ حق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٦٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٦-٨ (٢٣٦٠- ٢٣٦٢)، والصلح ١٢ (٢٧٠٨)، و تفسیر سورة النساء ١٢ (٤٥٨٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣)، و تفسیر سورة النساء، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، والرہون ٢٠ (٢٤٨٠)، مسند احمد (١/١٦٥)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٥٤١٨ (صحیح )
5410Sunan An Nasai

اپنے گھر میں فیصلہ کرنا

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا، فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى: يَا كَعْبُ، قَالَ: لَبَّيْكَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا، وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ.

کعب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد ؓ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چناچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: کعب! وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اتنا قرض معاف کر دو اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا: اٹھو اور قرض ادا کرو ۔

It was narrated from Abdullah bin Kab, from his father, that: He asked Ibn Abi Hadrad to pay off a debt that he owed him. Their voices grew so loud that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard them when he was inside his house. He came out to them, drew back the curtain of his room and called out: "O Kab!" He said: "Here I am, O Messenger of Allah." He said: "Drop his debt to half." He said: "I will do that." He said (to the debtor): "Go and pay it off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5408
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧١ (٤٥٧)، ٧٣ (٤٧١)، الخصومات ٤ (٢٤١٨)، ٩ (٢٤٢٤)، الصلح ١٠ (٢٧٠٦)، ١٤ (٢٧١٠)، صحیح مسلم/البیوع ٢٥ (المساقاة ٤) (١٥٥٨)، سنن ابی داود/الأقضیة (٣٥٩٥)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٠)، مسند احمد (٦/٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٤٩ (٢٦٢٩) (صحیح )
5411Sunan An Nasai

مدد چاہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شَرَحِبِيلَ، قَالَ: قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِهِ، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي، وَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعْدِي عَلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِهِ فَفَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا، ارْدُدْ عَلَيْهِ كِسَاءَهُ، وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ، أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.

عباد بن شرحبیل ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چناچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا: اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا، اس کی چادر اسے لوٹا دو ، اور مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated that Abbad bin Shurahbil said: "I came to Al-Madinah with my paternal uncles and entered one of its gardens, where I rubbed an ear of grain (to take some grains). The owner of the garden came, took my cloak and hit me. I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and sought his help against him. He sent for the man and they brought him. He said: What made you do that? He said: O Messenger of Allah, he entered my garden and took one of the ears of grain and rubbed it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You did not teach him if he was ignorant, nor feed him if he was hungry. Give him back his cloak. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered me with a Wasq or half a Wasq.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5409
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں وأعطانی یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ ﷺ نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٩٣ (٢٦٢٠، ٢٦٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١)، مسند احمد (٤/١٦٧) (صحیح )
5412Sunan An Nasai

خواتین کو عدالت میں حاضر کرنے سے بچانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا: أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا. فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.

ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا: ہاں، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے، وہ کہنے لگا: میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے، چناچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی ، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا، اور انیس ؓ کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ١ ؎، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو، چناچہ اس نے اعتراف کرلیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔

It was narrated from Abu Hurairah and Zaid bin Khalid Al-Juhani that: Two men referred a dispute to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). One of them said: "O Messenger of Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah." The other, who was wiser, said: "Yes, O Messenger of Allah, and allow me to speak." He said: "My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. They told me that my son was to be stoned to death, but I ransomed him with one hundred sheep and a slave girl of mine. Then I asked the people of knowledge, who told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year, and that his (the mans) wife was to be stoned to death." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah. As for your sheep and your slave girl, take them back." Then he gave his son one hundred lashes, and exiled him for one year, and he ordered Unais to go to the wife of the other man and if she confessed, to stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5410
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس ؓ کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جاسکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ١٣ (٢٣١٤)، الصلح ٥ (٢٦٩٥، ٢٦٩٦)، الشروط ٩ (٢٧٢٤، ٢٧٢٥)، الأیمان ٣ (٦٦٣٣، ٦٦٣٤)، الحدود ٣٠ (٦٨٢٧، ٦٨٢٨)، ٣٤ (٦٨٣٥)، ٣٨ (٦٨٤٢)، ٤٦ (٦٨٦٠)، الأحکام ٤٣ (٧١٩٣)، الآحاد ١ (٧٢٥٨)، صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩٧)، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٤٤٤٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٧ (٢٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٥)، موطا امام مالک/الحدود ١ (٦)، مسند احمد ٤/١١٥، ١١٦، سنن الدارمی/الحدود ١٢ (٢٣٦٣) (صحیح )
5413Sunan An Nasai

خواتین کو عدالت میں حاضر کرنے سے بچانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.

ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، اس نے کہا: اس نے ٹھیک کہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: بتاؤ تو اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ چناچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم (غلام) دے دیا (گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے، چناچہ اس نے تاوان دے دیا) ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا: رہیں سو بکریاں اور خادم (غلام) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور انیس! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقبال جرم کرلے تو اسے رجم کردینا ، چناچہ وہ گئے، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔

It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man stood up and said: I adjure you, by Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah. His opponent, who was wiser than him, stood up and said: He is right, pass judgment between us according to the Book of Allah. He said: Speak. He said: My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. I ransomed him with one hundred sheep and a servant. It is as if he was told that his son was to be stoned to death but he ransomed him from that. Then I asked some knowledgeable men and they told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: By the One in Whose hand is my soul, I will pass judgment between you according to the Book of Allah, the Mighty and Sublime. As for the one hundred sheep and the servant, take them back, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. O Unais, go tomorrow to the wife of this man and if she confesses, then stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5411
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5414Sunan An Nasai

جس نے زنا کیا ہو حاکم کو اس کا طلب کرنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ، فَقَالَ: مِمَّنْ ؟قَالَتْ: مِنَ الْمُقْعَدِ الَّذِي فِي حَائِطِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ مَحْمُولًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاعْتَرَفَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِثْكَالٍ، فَضَرَبَهُ وَرَحِمَهُ لِزَمَانَتِهِ وَخَفَّفَ عَنْهُ.

ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے (مرسلاً ) ١ ؎ روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا: کس کے ساتھ؟ وہ بولی: اپاہج سے جو سعد ؓ کے باغ میں رہتا ہے، آپ نے اسے بلا بھیجا چناچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that: A woman who had committed Zina was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: "With whom?" She said: "With the paralyzed man who lives in the garden of Sad." He was brought and placed before (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) and he confessed. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called for a bunch of palm leaves and hit him. He took pity on him because of his disability and was lenient with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5412
Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا: بعض اصحاب نبی اکرم ﷺ کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ٢ ؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٤٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود ٣٤ (٤٤٧٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٨ (٢٥٧٤)، مسند احمد (٥/٢٢٢٢٢) (کلھم بزیادة ” سعید بن سعد بن عبادة “ أو ” بعض أصحاب النبی ﷺ “ بعد ” أبی أمامة “ ) (صحیح )
5415Sunan An Nasai

حاکم کا رعایا کے درمیان صلح کرانے کے لئے خود جانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَانْتُظِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتُبِسَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ صَفَّحُوا، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ تَصْفِيحَهُمُ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَدَيْهِ، ثُمَّ نَكَصَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ ؟قَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّحْتُمْ، إِنَّ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے، تو نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، تو بلال ؓ نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے، پھر اقامت کہی اور ابوبکر ؓ آگے بڑھے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ آگئے، ابوبکر ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو (بتانے کے لیے) تالی بجا دی۔ (ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ہیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا، تو ابوبکر ؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا؟ وہ بولے: یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو، یہ تو عورتوں کے لیے ہے، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے ۔

Sahl bin Sad Al-Saidi said: "Words were exchanged between two clans of the Ansar, to the point that they began to throw rocks at one another. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went to reconcile between them. The time for prayer came, so Bilal called Adhan and waited for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), but he was delayed. He said the Iqamah and Abu Bakr (RA) with him, went forward (to lead the prayer). Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came while Abu Bakr was leading the people in prayer, and when the people saw him they clapped. Abu Bakr would not turn around when he was praying, but when he heard them clapping, he turned around and saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He wanted to step back but (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gestured to him to stay where he was. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, raised his hands, then he moved backward and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came forward and led (the rest of) the prayer. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying, he said: What prevented you from staying where you were? He said: I would not like Allah to see the son of Abu Quhafah standing in front of His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Then he (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) turned to the people and said: If you noticed something while you were praying, why did you clap? That is for women. Whoever notices something while he is praying, let him say: "Subhan Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5413
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٦٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٣ (١٢٠١)، ١٦ (١٢١٨)، الصلح ١ (٢٦٩٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١)، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣١، ٢٣٦) (صحیح )
5416Sunan An Nasai

حاکم دونوں فریق میں سے کسی ایک کو مصالحت کے واسطے اشارہ کرسکتا ہے

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ، وَتَرَكَ نِصْفًا.

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی ؓ پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: کعب! پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے: آدھا ، چناچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔

It was narrated from Kab bin Malik that: He owed a debt by Abdullah bin Abi Hadrad Al-Aslami. He met him, and asked him to pay it off. They exchanged words until their voices became loud. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by them and said: "O Kab!" and he gestured with his hand to say half. So he took half of what was owed and let him off the other half.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5414
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٤١٠ (صحیح )
5417Sunan An Nasai

حاکم معاف کرنے کے واسطے اشارہ کرسکتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: أَتَعْفُو ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: أَتَعْفُوقَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: أَتَعْفُو ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.

وائل ؓ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم معاف کر دو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا معاف کر دو گے؟ کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: دیت لو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا معاف کر دو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: دیت لو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا: اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا ، یہ سن کر اس نے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔

It was narrated that Wail said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a killer was brought by the heir of the victim by a string. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to the heir of the victim: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. When he went and turned away from him, he called him back and said: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. When he went and turned away from him, he called him back and said: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. At that point the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: But if you forgive him, he will carry his own sin and the sin of your companion. So he forgave him, and I saw him dragging his string.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5415
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٢٧ (صحیح )
5418Sunan An Nasai

حاکم پہلے نرمی کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ.

عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر ؓ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا: پانی کو بہتا چھوڑ دو، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: زبیر! سینچائی کرلو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا، وہ بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: زبیر! سینچائی کرو، اور پانی مینڈوں تک روک لو ، زبیر ؓ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت: فلا وربک لا يؤمنون نہیں، تمہارے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے (النساء: ٦٥ ) اسی سلسلے میں اتری۔

It was narrated from Urwah that Abdullah bin Az-Zubair narrated to him that: A man among the Ansar disputed with Az-Zubair concerning a stream in Al-Harrah from which they both used to water their date palm trees. The Ansari said: "Let the water flow," but he (Az-Zubair) refused. They brought their dispute to the Messenger of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Irrigate (your land), O Zubair, then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said: "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls." Az-Zubair said: "I think that this Verse was revealed concerning this matter: But no, by your Lord, they can have no faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5416
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقات ٦ (٢٣٥٩، ٢٣٦٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن ابی داود/الِٔقضیة ٣١ (٣٦٣٧)، سنن الترمذی/الٔؤحکام ٢٦ (١٣٦٣)، تفسیر سورة النساء (٣٠٢٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، مسند احمد (٤/٤) (صحیح )
5419Sunan An Nasai

مقدمہ کے فیصلہ سے قبل حاکم کے سفارش کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبْ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي ؟، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا شَفِيعٌ، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے عباس ؓ سے کہا: عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے؟، رسول اللہ ﷺ نے اس (بریرہ) سے فرمایا: اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی (تو بہتر ہوتا) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے ، وہ بولیں: اللہ کے رسول! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، میں تو سفارش کر رہا ہوں ، وہ بولیں: پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that: The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him walking behind her weeping, with the tears running down onto his beard. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to Al-Abbas: "O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah and the hatred of Barirah for Mughith?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: "Why dont you take him back, for he is the father of your child?" She said: "O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?" He said: "I am just interceding." She said: "I have no need of him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5417
Notes · وضاحت
١ ؎: مغیث اور بریرہ ؓ کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ بریرہ ؓ کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ ؓ سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جاسکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٦ (٥٢٨٣)، سنن ابی داود/الطلاق ١٩ (٢٢٣١)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٨)، مسند احمد (١/٢١٥) (صحیح )
5420Sunan An Nasai

اگر کسی شخص کو مال کی ضرورت ہو اور وہ شخص اپنے مال کو ضائع کر دے تو حاکم روک سکتا ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَكَانَ مُحْتَاجًا، وَكَانَ عَلَيْهِ دَينٍ، فَبَاعهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: اقْضِ دَيْنَكَ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کردیا، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا: اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A man among the Ansar stated that his salve was to be set free after he died; he was in need, and he owed a debt. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sold him (the slave) for eight hundred Dirhams, and he gave (the money) to him and said: Pay off your debt and spend on your dependents.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5418
Notes · وضاحت
١ ؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦٥٨ (صحیح )