ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا ، ایک شخص نے آپ سے کہا: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Umamah that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, Allah makes the Fire required for him, Paradise unlawful for him." A man said to him: "O Messenger of Allah, even if it is something small?" He said: "Even if it is a twig of an Arak tree.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5419
Notes · وضاحت
١ ؎: جب جھوٹی قسم کھا کر پیلو کی ایک ڈال ہڑپ کرلینے پر اتنی سخت وعید ہے تو اتنی سی معمولی چیز کے بارے میں عدالتی فیصلہ بھی ہوسکتا ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٧)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨ (٢٣٢٤)، موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١١)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤)، مسند احمد (٥/٢٦٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہند ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل شخص ہیں، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے؟ آپ نے فرمایا: بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Hind came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said : O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy man who does not spend enough on my child and I. Can I take from his wealth without him realizing? He said: Take what is sufficient for you and your child on a reasonable basis.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5420
Notes · وضاحت
١ ؎: اس غائب اور غیر موجود کو پہچانتا ہو، اور مدعی کی صداقت اور مدعی علیہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو جیسا کہ ہند اور ابوسفیان ؓ کے معاملہ کی بابت آپ ﷺ جانتے تھے، ہر مدعی علیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عام حالات میں مدعی کی گواہی یا قسم اور مدعا علیہ کے بیان سننے کی ضرورت ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ ؓ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ١ ؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے ۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Bakrah, who was a governor in Sijistan, said: "Abu Bakrah wrote to me, saying: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No one should pass two judgments on one issue, and no one should pass judgment between two disputing parties while he is angry.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5421
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں ۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You refer your disputes to me, but I am only human. And some of you may be more eloquent in arguing their case than others, and I may pass judgment on the basis of what I hear. If I pass judgment in favor of one of you against his brothers rights, then it is a piece of the fire that I am giving him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5422
Notes · وضاحت
١ ؎: تو کیا وہ پانے والے کے لیے ہر حال میں حلال ہوگا؟ نہیں، خود جب نبی اکرم ﷺ کے فیصلے پر ملنے سے حلال نہیں ہوسکتا، (اگر حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو دوسرے کسی قاضی کے فیصلے سے کیسے جائز ہوسکتا ہے، اس لیے اس طرح کے معاملے میں سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے تو یہ فیصلہ ٹھیک ہے، لیکن اس طرح کے فیصلے حرام کو حلال، اور حلال کو حرام نہیں کرسکتے، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے فیصلے پر یہ عرض کیا کہ حقیقت میں غلط فیصلہ پر عمل آدمی کو جہنم پہنچا سکتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The most hated of men to Allah is the most quarrelsome of opponents.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5423
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد: باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا اور چرب زبانی کرنے والا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Abu Musa: That two men referred a dispute to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) concerning an animal, and neither of them had any evidence, so he ruled that it be shared equally between them.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5424
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔرقضیة ٢٢ (٣٦١٣)، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام ١١ (٢٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٨)، مسند احمد (٤/٤٠٣) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم ٢٦٥٦ )
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ دو لڑکیاں طائف میں موزے (خف) بنایا کرتی تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا، اس نے بتایا کہ اس کی سہیلی نے اسے زخمی کیا ہے، لیکن دوسری نے انکار کیا، تو میں نے اس سلسلے میں ابن عباس ؓ کو لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ قسم تو مدعا علیہ سے لی جائے گی، اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق (فیصلہ) مل جایا کرے تو بعض لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کی جان کا بھی دعویٰ کر بیٹھیں، اس لیے اس عورت کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھو: إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں کو معمولی قیمت سے بیچ دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمران: ٧٧ ) یہاں تک کہ آیت ختم کی، چناچہ میں نے اسے بلایا اور یہ آیت اس کے سامنے تلاوت کی تو اس نے اس کا اعتراف کیا، جب انہیں (ابن عباس کو) یہ بات معلوم ہوئی تو خوش ہوئے۔
It was narrated from Nafi bin Umar, that Ibn Abi Mulaikah said: "There were two female neighbors who used to do leatherwork (with an awl) in At-Taif. One of them came out with her hand bleeding and claimed that her companion had injured her, but the other one denied it. I wrote to Ibn Abbas concerning that. He wrote, (saying) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ruled that the person against whom the claim was made should swear an oath. For if people were to be given what they claimed was theirs, then people would make claims against the wealth and blood of others." So he called her and recited this Verse to her: "Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." until the end of the Verse. He called her and recited that to her, and she confessed to that. News of that reached him and he was happy.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5425
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: کسی معاملہ میں قسم کی ضرورت پڑے تو پہلے حاکم جس سے قسم لے اس کو نصیحت کرے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا: کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ٢ ؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو؟ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "Muawiyah, (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to a circle - meaning, of his Companions - and said: What are you doing? They said: We have come together to pray to Allah and praise Him for guiding us to His religion, and blessing us with you. He said: I ask you, by Allah, is that the only reason? They said: By Allah, we have not come together for any other reason. He said: I am not asking you to swear to an oath because of any suspicion; rather Jibril came to me and told me that Allah, the Mighty and Sublime, is boasting of you to the angels.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5426
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ٢ ؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ ﷺ لفظ واللہ سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا، تو اس سے پوچھا: کیا تم نے چوری کی؟ وہ بولا: نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ١ ؎، عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Isa bin Mariam علیہ السلام saw a man stealing, and said to him: Are you stealing? He said: No, by Allah besides Whom there is no other God! Isa علیہ السلام said: I believe in Allah and I disbelieve my eyes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5427
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں یہی قسم کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ بھی کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ قسم کھایا یا لیا کرتے تھے، دونوں حدیثوں میں مذکور دونوں الفاظ کے علاوہ بھی کچھ الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ قسم کھایا یا کرتے تھے جیسے لا ومصرف القلوب، لا ومقلب القلوب وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔلنبیاء ٤٨ (٣٤٤٤ تعلیقًا)، (تحفة الٔاشراف: ١٤٢٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٤ (٢١٠٢)، مسند احمد (٢/٣١٤، ٣٨٣) (صحیح )