حاکم دونوں فریق میں سے کسی ایک کو مصالحت کے واسطے اشارہ کرسکتا ہے
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ، وَتَرَكَ نِصْفًا.
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی ؓ پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: کعب! پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے: آدھا ، چناچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
It was narrated from Kab bin Malik that: He owed a debt by Abdullah bin Abi Hadrad Al-Aslami. He met him, and asked him to pay it off. They exchanged words until their voices became loud. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by them and said: "O Kab!" and he gestured with his hand to say half. So he took half of what was owed and let him off the other half.