Sunan An Nasai 2610

زکوة سے متعلقہ احادیث

2610Sunan An Nasai

جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کرلو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو ۔

‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard ‘Umar, may Allah be pleased with him, say: ‘The Prophet ﷺ used to give me payment and I would say: Give it to someone who is more in need of it than I am, until one day he gave me some money and I said to him: Give it to Someone who is more in need of it than I am. He, said: Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2608
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، الأحکام ١٧ (٧١٦٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، تحفة الأشراف: ١٠٥٢٠)، مسند احمد (١/٢١، سنن الدارمی/الزکاة ١٩ (١٦٨٨) (صحیح )