Sunan An Nasai 2557

زکوة سے متعلقہ احادیث

2557Sunan An Nasai

فضیلت صدقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ: الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا.

حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کردینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ١ ؎۔

It was narrated that Harithah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Give charity, for there will come a time when a man will walk about with his charity, and the one to whom he wants to give it will say: If you had brought it yesterday I would have accepted it, but today (I have no need of it).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2555
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آج میں مالدار ہوگیا ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٩ (١٤١١)، ١٦ (١٤٢٤)، الفتن ٢٥ (٧١٢٠)، صحیح مسلم/الزکاة ١٨ (١٠١١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٦)، مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح )