Sunan An Nasai 4831

قسامت کے متعلق

4831Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى، فَقَتَلَتْهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا، فَقَالُوا: نُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟، هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ.

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غرہ (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ۔

It was narrated from al-amash from Ibrahim who said: "I woman struck her co-wife, who was pregnant, with a rock and killed her Messenger of Allah ﷺ ruled that a slave should be given (as Diyah) for the child in her woman, and that her Diyah should be paid by her Asabah. They said: should we be penalized for one who neither after nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked. He said: Rhyming vase like the vase of the Bedouins? It is what I say to (sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4827
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢٥ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابراہیم نخعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایات مرفوع متصل ہیں )