عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً، فَأَسْقَطَتِ الْمَخْذُوفَةُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ عَقْلَ وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةٍ مِنَ الْغُرِّ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا وَهْمٌ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَرَادَ مِائَةً مِنَ الْغُرِّ، وَقَدْ رُوِيَ النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گرگیا، چناچہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ١ ؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے: عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
"Abdullah bin Buraidah narrated that: a woman threw pebbles at another woman and the woman who was struck miscarried. The matter was referred to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he set the blood money for her child at five hundred sheep. And on that day, he forbade throwing pebbles. (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is an error, and it must be that the intent was one hundred camels. And the prohibition of throwing pebbles has been related from Abdullah bin Buraidah, from Abdullah bin Mughaffal.