سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: أَلَا وَإِنَّ كُلَّ قَتِيلِ خَطَإِ الْعَمْدِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا، أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.
ایک صحابی رسول ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: سنو! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔
It was narrated from Yaqub bin Aws, from a man among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that: when the Messenger of Allah ﷺ entered Makkah on the Day of the Conquest, he said: "Indeed, every accidental killing on purpose, or resembling on purpose - killing with a whip or stick, for it are forty (she-camels) which their young in their wombs.