شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Ash-Sharid, that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: if one who can afford it delay repayment, his honor and punishment become permissible.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4689
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی برائی کرسکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
شرید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ۔
It was narrated from Amr bin Ash-Shrid, from his father that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4690
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرلے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wrongdoing is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to help repay debt), he should accept that referral.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4691
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں، آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے ، ابوقتادہ نے کہا: میں اس کی ضمانت لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: پورا ادا کرو گے؟ کہا: جی ہاں ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that a man from among the Ansar was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for him to offer the funeral prayer, and he said: "Your companion owes a debt. " Abu Qutdah said: "I will guarantee it for him. "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "In full?" He said: "In full." (Sahah)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4692
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا: جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کردینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کردیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There was a man who never did any good deed, but he used to lend to people and he would say to this messenger: "Take what can be paid easily and leave what is difficult, let them off, and perhaps Allah, the Mighty and Sublime, said to him: Did you ever do any good did? He said: No, but I had a slave and I used to lend to people. When I sent him to collect the debts I said to him: Take what can he paid easily and leave what is difficult; let them off, and perhaps Allah will let us off. Allah, the Most High, said: I have let you off.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4694
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی مفلس (دیوالیہ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا: اسے معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ۔
Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A man used to lend to people, but if he realized that someone was going through hardship, he would say to his slave: Let him off, perhaps Allah, the Most High, will let us off. And when he met Allah, He let him off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4695
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کردیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا ۔
It was narrated that Uthman bin Affan said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Mighty and Sublime, admitted to paradise a man who was easygoing in buying and selling, in paying off debts and asking for repayment." (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4696
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٨ (٢٢٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨٣٠)، مسند احمد (١/٥٨، ٦٧، ٧٠) (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چناچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔
It was narratd that Abdullah said: "Sad, Ammar and I entered into a partnership on the Day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. Ammar and I did not get anything. But sad got two prisoners.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4697
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٦٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود “ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو ١ ؎۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sets free his share of a slave should set him free completely from his own wealth, if he has enough wealth to cover the price of the slave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4698
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہوگیا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever sets free his share of a slave, and he has sufficient wealth to set him free completely by paying the price of the slave, then he should set him free with his own wealth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4699
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any one of you who has land, or date palm trees, he should not sell them until he offers them to his partner first.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4700
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ١ (٢٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٥)، مسند احمد (٢/٣٠٧) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that pre-emption is to be given in everything that is shared in which the division is not clear, whether it is a house or a garden. It is not permissible to sell it before informing ones partner, who may take it or leave it, as he wishes. He (the share-owner) sells it without informing him, and then he has more right to it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4701
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے ۔
It was narrated that Abu Rafi said: "The Messenger of Allah ﷺ said" "The neighbor has more right to property that is near.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4702
Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ٤٧٠٨۔
شرید ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین ہے، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے ۔
It was narrated from Amr Bin Ash-Sharid, from his father, that a man said: "O Messenger of Allah ﷺ, not one else has any share in my land, but there are neighbors." He said: "The neighbor has more right to property that is near.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4703
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٠)، مسند احمد (٤/٣٨٨، ٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہوجائے اور راستہ متعین ہوجائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Salamah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pre-emption takes effect in all cases where land has not been divided. But if the boundaries have been sent, and the roads lay out, then there is no pre-emption.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4704
Notes · وضاحت
١ ؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہوگا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٥٨٣) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (٢٢٥٧) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے )