خرید و فروخت کے مسائل و احکام

Sunan An Nasai · Chapter 44 · 257 hadiths · Page 13 of 13

4693Sunan An Nasai

دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ.

شرید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Ash-Sharid, that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: if one who can afford it delay repayment, his honor and punishment become permissible.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4689
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی برائی کرسکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (الأحکام ٥٨) (٢٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٨)، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن )
4694Sunan An Nasai

دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ ابْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ.

شرید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ۔

It was narrated from Amr bin Ash-Shrid, from his father that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4690
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4695Sunan An Nasai

قرضدار کو کسی دوسرے کی طرف محول کرنا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرلے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wrongdoing is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to help repay debt), he should accept that referral.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4691
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ١ (٢٢٨٧)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤)، سنن ابی داود/البیوع ١٠ (٣٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )
4696Sunan An Nasai

قرض کی ضمانت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں، آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے ، ابوقتادہ نے کہا: میں اس کی ضمانت لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: پورا ادا کرو گے؟ کہا: جی ہاں ۔

It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that a man from among the Ansar was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for him to offer the funeral prayer, and he said: "Your companion owes a debt. " Abu Qutdah said: "I will guarantee it for him. "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "In full?" He said: "In full." (Sahah)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4692
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٦٢ (صحیح )
4697Sunan An Nasai

قرض بہتر طریقہ سے ادا کرنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The best of you is the one who is best in repaying.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4693
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦٢٢ (صحیح )
4698Sunan An Nasai

حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا: جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کردینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کردیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There was a man who never did any good deed, but he used to lend to people and he would say to this messenger: "Take what can be paid easily and leave what is difficult, let them off, and perhaps Allah, the Mighty and Sublime, said to him: Did you ever do any good did? He said: No, but I had a slave and I used to lend to people. When I sent him to collect the debts I said to him: Take what can he paid easily and leave what is difficult; let them off, and perhaps Allah will let us off. Allah, the Most High, said: I have let you off.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4694
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٣٢٦)، مسند احمد (٢/ ٣٦١) (صحیح )
4699Sunan An Nasai

حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ وَكَانَ إِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی مفلس (دیوالیہ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا: اسے معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ۔

Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A man used to lend to people, but if he realized that someone was going through hardship, he would say to his slave: Let him off, perhaps Allah, the Most High, will let us off. And when he met Allah, He let him off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4695
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٨ (٢٠٨٧)، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨٠)، صحیح مسلم/المساقاة ٦ (١٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٤١٠٨) (صحیح )
4700Sunan An Nasai

حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کردیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا ۔

It was narrated that Uthman bin Affan said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Mighty and Sublime, admitted to paradise a man who was easygoing in buying and selling, in paying off debts and asking for repayment." (Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4696
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٨ (٢٢٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨٣٠)، مسند احمد (١/٥٨، ٦٧، ٧٠) (حسن )
4701Sunan An Nasai

بغیر مال کے شرکت سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا، وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چناچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔

It was narratd that Abdullah said: "Sad, Ammar and I entered into a partnership on the Day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. Ammar and I did not get anything. But sad got two prisoners.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4697
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٦٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود “ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں )
4702Sunan An Nasai

بغیر مال کے شرکت سے متعلق

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُتِمَّ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو ١ ؎۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sets free his share of a slave should set him free completely from his own wealth, if he has enough wealth to cover the price of the slave.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4698
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١)، الأیمان ١٢ (١٥٠١)، سنن ابی داود/العتق ٦ (٣٩٤٦)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٧)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٥)، مسند احمد (٢/ ٣٤) (صحیح )
4703Sunan An Nasai

غلام باندی میں شرکت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَبْدِ فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever sets free his share of a slave, and he has sufficient wealth to set him free completely by paying the price of the slave, then he should set him free with his own wealth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4699
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩١)، العتق ٤ (٢٥٢٢)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١)، سنن ابی داود/العتق ٦ (٣٩٤١)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٥١١)، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح )
4704Sunan An Nasai

درخت میں شرکت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any one of you who has land, or date palm trees, he should not sell them until he offers them to his partner first.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4700
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ١ (٢٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٥)، مسند احمد (٢/٣٠٧) (صحیح )
4705Sunan An Nasai

زمین میں شرکت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ وَحَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that pre-emption is to be given in everything that is shared in which the division is not clear, whether it is a house or a garden. It is not permissible to sell it before informing ones partner, who may take it or leave it, as he wishes. He (the share-owner) sells it without informing him, and then he has more right to it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4701
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٦٥٠ (صحیح )
4706Sunan An Nasai

شفعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated that Abu Rafi said: "The Messenger of Allah ﷺ said" "The neighbor has more right to property that is near.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4702
Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ٤٧٠٨۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشفعة ٢ (٢٢٥٨)، الحیل ١٤(٦٩٧٧)، ١٥(٦٩٧٨)، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٦)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٣ (الأحکام ٨٧) (٢٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٧)، مسند احمد (٦/١٠، ٣٩٠) (صحیح )
4707Sunan An Nasai

شفعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.

شرید ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین ہے، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated from Amr Bin Ash-Sharid, from his father, that a man said: "O Messenger of Allah ﷺ, not one else has any share in my land, but there are neighbors." He said: "The neighbor has more right to property that is near.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4703
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٤٠)، مسند احمد (٤/٣٨٨، ٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
4708Sunan An Nasai

شفعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہوجائے اور راستہ متعین ہوجائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Salamah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pre-emption takes effect in all cases where land has not been divided. But if the boundaries have been sent, and the roads lay out, then there is no pre-emption.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4704
Notes · وضاحت
١ ؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہوگا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٥٨٣) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (٢٢٥٧) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے )
4709Sunan An Nasai

شفعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ وَالْجِوَارِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ اور پڑوس کے حق کا حکم دیا۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ decreed the principle of pre-emption, and the (rights of) neighbors.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4705
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٦٨٧) (صحیح )