Sunan An Nasai 4695

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4695Sunan An Nasai

قرضدار کو کسی دوسرے کی طرف محول کرنا جائز ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرلے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wrongdoing is when a rich man takes a long time to repay a debt, and if one of you is referred to a rich man (to help repay debt), he should accept that referral.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4691
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ١ (٢٢٨٧)، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤)، سنن ابی داود/البیوع ١٠ (٣٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح )