Sunan An Nasai 417

غسل کا بیان

417Sunan An Nasai

اگر کسی شخص نے احرام کے واسطے غسل کیا اور اس نہ احرام کے بعد پھر خوشبو لگائی اور اس خوشبو کا اثر باقی رہ گیا تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنَضَخُ طِيبًا، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَفَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْطَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں (اپنے جسم پر) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو (محمد بن منتشر کہتے ہیں) میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر ؓ کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین ؓ نے کہا: میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ١ ؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی (اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا) ۔

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘I would rather wake up in the morning covered in tar than wake up and enter Ii with the smell of perfume coming from me.’ I entered upon Aishah (RA) and told her what he had said, and she said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he went round to all his wives, then in the morning he entered Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 417
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان سے صحبت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٢(٢٦٧)، ١٤(٢٧٠)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٢)، (تحفة الأشراف ١٧٥٩٨) مسند احمد ٦/١٧٥، ویأتي عندالمؤلف بأرقام: ٤٣١، ٢٧٠٥ (صحیح )