ایک سے زیادہ بیویوں سے جماع کرکے ایک ہی غسل فرمانا
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قالت عَائِشَةُكُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ١ ؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ٢ ؎۔
Aisha (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he would go round to all his wives, then enter Ihram in the morning with the smell of perfume coming from him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 431
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے کنایہ جماع کی طرف ہے۔ ٢ ؎: باب پر استدلال اس طرح سے ہے کہ آپ ﷺ ہر بیوی سے جماع کے بعد الگ الگ غسل کرتے تو جسم پر خوشبو کا اثر باقی نہ رہتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٧ (صحیح )