کس طریقہ سے نماز فرض ہوئی؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم ﷺ حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Salah was enjoined on the lips of the Prophet ﷺ , four Rak’ahs while resident, and two while traveling, and one Rak’ah during times of fear.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 456
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ ؓ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین حدیث ٦ (٦٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٨٧ (١٢٤٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٣ (١٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، بدون الشطر الأخیر، حم ١/٢٣٧، ٢٤٣، ٢٥٤، ٣٥٥، ویأتی عند المؤلف (برقم: ١٤٤٢، ١٤٤٣، ١٥٣٣) (صحیح )