جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 14 of 14

2079Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ بَنِي آدَمَ وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ، يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی آدم (کے جسم کا ہر حصہ) ، (مغیرہ والی حدیث میں ہے) ابن آدم (کے جسم کے ہر حصہ کو) مٹی کھا جاتی ہے، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے، اور اسی سے (دوبارہ) جوڑا جائے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: The Messenger of Allah said: The whole of the son of Adam will be consumed by the earth, except for the tailbone, from which he was created and from which he will be created a new."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2077
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر ٤ (٤٨١٤)، و تفسیر النبأ ١ (٤٩٤٥)، صحیح مسلم/الفتن ٢٨ (٢٩٥٥)، سنن ابی داود/السنة ٢٤ (٤٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٥، ١٣٨٨٤)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٨)، مسند احمد ٢/٣١٥، ٣٢٢، ٤٢٨، ٤٩٩ (صحیح )
2080Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ، فَقَوْلُهُ: إِنِّي لَا أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ، فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کرسکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بےنیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "Allah, the Mighty and Sublinm, says: The son of Adam denied Me and he had no right to do so. and the son of Adam reviled Me and he had no right to do so. As for his denying Me, It is his saying that I will not resurrect him as I created him in the beginning, but resurrecting him is not more difficult for Me than creating him in the first place. And as for his reviling Me, it is his saying that Allah has taken a son, but I am Allah, the One, the Self-Sufficient Master, I beget not nor was I begotten, and there is none co-equal or comparable unto Me."

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2078
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٣)، و تفسیر سورة الصمد ١ (٤٩٧٤)، مسند احمد ٢/٣١٧، ٣٥٠، ٣٩٤ (صحیح )
2081Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا: ایک بندے نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا (سخت) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا ، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، (تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah say: There was a man who wronged himself greatly, and when he was dying he said to his family: When I am dead, burn my body then grind my bones and scatter me in the wind and at sea, for by Allah , if Allah gets hold of me, he will punish me in a way that He will not punish anyone else. So his family did that, but Allah, the Mighty and Sublime, said to everything that had taken any part of him to give up what it had taken. Then there he was, standing Allah, the Mighty and Sublime, said: What made you do what you did? He said: Fear of You. So Allah forgave him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2079
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨١)، والتوحید ٣٥ (٧٥٠٦)، صحیح مسلم/التوبة ٥ (٢٧٥٦)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٠ (٤٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٨٠)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥١)، مسند احمد ٢/٢٦٩ (صحیح )
2082Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ، قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ.

حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چناچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah said: "There was a man among those who came before you who thought badly of his deeds, so when death was approaching he said to his family: When I am dead, burn my body and grind up my bones, then scatter me in the sea, for if Allah gets hold of me, He will never forgive me. But Allah commanded the angles to seize his soul. He said to him: What made you do what you did? He said:: O Lord, I only did it because I feared You. So Allah forgave him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2080
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٩)، والرقاق ٢٥ (٦٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣١٢)، مسند احمد ٥/٣٨٣، ٣٩٥، ٤٠٧ (صحیح )
2083Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون ملو گے ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I heard the Messenger of Allah delivering a Khutbah from the Minbar and he said: You will meet Allah barefoot, naked and uncircumcised."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2081
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٥ (٦٥٢٤، ٦٥٢٥)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٦٠)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٣)، وقد أخرجہ: حم ١/٢٢٠ (صحیح )
2084Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُرَاةً غُرْلًا، وَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: كما بدأنا أول خلق نعيده جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے (الانبیاء: ١٠٤ ) ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The people will be gathered on the Day of Resurrection naked and uncircumcised. The first one to be clothed will be Ibrahim." Then he recited: As We began the first creation, We shall repeat it

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2082
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٨ (٣٣٤٩)، ٤٩ (٣٤٤٧)، تفسیر المائدة ١٣ (٤٦٢٦)، تفسیر الأنبیاء ٢ (٤٧٤٠)، الرقاق ٤٥ (٦٥٢٦)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٦٠)، سنن الترمذی/صفة القیامة ٣ (٢٤٢٣)، تفسیر الأنبیاء (٣١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٢)، مسند احمد ١/٢٢٣، ٢٢٩، ٢٣٥، ٢٥٣، سنن الدارمی/الرقاق ٨٢ (٢٨٤٤)، ویأتي برقم: ٢٠٨٩ (صحیح )
2085Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ ؟ قَالَ: لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے ، تو اس پر عائشہ ؓ نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (ان چیزوں سے) بےنیاز کر دے گی ۔

It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah said: "The people will be raised up on the Day of Resurrection barefoot, naked and uncircumcised." Aishah said: "What about their Awrahs?" he said: "Every man that day will have enough to make him careless of others".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2083
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٢٨)، مسند احمد ٦/٩٠ (صحیح )
2086Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً، قُلْتُ: الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ: إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ (قیامت کے دن) ننگے پاؤں (اور) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے ، میں نے پوچھا: مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: معاملہ اتنا سنگین ہوگا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہوگی ۔

It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will be gathered (one the Day of Resurrection) barefoot and naked." I said: "Men and women looking at one another?" he said: "The matter will be too difficult for people to pay attention to that."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2084
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٥ (٦٥٢٧)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٥٩)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٣ (٤٢٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٦١)، مسند احمد ٦/٥٣ (صحیح )
2087Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ، اثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشْرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ١ ؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ١ ؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: The people will be gathered on the Day of Resurrection in three ways. (the first will be) those who have the hope (of Paradise) and the fear (of punishment). (the second will be) those who come riding two on a camel, or three on a camel, or four on a camel, or the on a camel, or four on a camel, or ten on a camel or ten o a camel. And the rest of them will be gathered by the Fire which will accompany them, stopping with them where they rest in the afternoon, and staying with them where they stop overnight, and staying with them wherever they are in the morning, and in the evening.""

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2085
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آگ کا ذکر بہت سی حدیثوں میں آیا ہوا ہے، یہ عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو شام کی طرف ہانک کرلے جائے گی۔ ٢ ؎: یہ پہلا گروہ ہوگا جو موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسی وقت چل پڑے گا جب سواریوں اور زاد راہ کی بہتات ہوگی، چناچہ وہ سوار ہو کر کھاتا اور پہنتا پہنچے گا، اور کچھ بیٹھے رہیں جب سواریاں کم ہوجائیں گی تب چلیں گے، ایک اونٹ پر کئی کئی لوگ سوار ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جو سواریوں سے محروم ہوگا، اور جسے آگ پا پیادہ ہانک کرلے جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٥ (٦٥٢٢)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٦١)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢١) (صحیح )
2088Sunan An Nasai

قیامت کے دن دوسری مرتبہ زندہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْأَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي: أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق ﷺ نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ (قیامت کے دن) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہوگا، کھاتے (اور) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا (بلکہ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چناچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہوگا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا۔

It was narrated that Abu Dharr said; "The truthful one whom people believe told me: The people will be gathered in three groups: A group who will be riding, well fed and well clothed; a group whom the angels will drag on their faces and whom the fire will drive; and a group who will be walking with difficulty. Allah will send a disease to kill all the riding beasts and none will remain, until a man would give a garden for a she-camel but he will not be able to have it.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2086
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٦)، مسند احمد ٥/١٦٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” ولید بن عبداللہ بن جمیع “ حافظہ کے ذرا کمزور راوی ہیں، اس لیے کبھی کبھی انہیں روایتوں میں وہم ہوجایا کرتا تھا )
2089Sunan An Nasai

سب سے پہلے کسے کپڑے پہنائے جائیں گے؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے (ابوداؤد کی روایت میں یجائ ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں سیؤتی ہے) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی (تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، (اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے) ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah stood up to give an admonition and he said: O people, you will be gathered to Allah naked." (One of the narrators) Abu Dawud said: "Barefoot and uncircumcised." (The narrators) Waki and Wahb said: "Naked and uncircumcised: As We began the first creation, We shall repeat it. The first one to be clothed on the Day of Resurrection will be Ibrahim, peace be upon him. Then some men from among my Ummah will be brought and will be taken toward the left. I will say: O Lord, my companions. It will be said: You do not know what they innovated after you were gone, and I shall say what the righteous slave said: And I was witness over them while I dwelt amongst them, but when You took me up, You were the Watcher over them, but when You took me up, You were the Watcher over them; and You are a Witness to all things. If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise. And it will be said: These people kept turning away since you left them."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2087
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٨٤ (صحیح )
2090Sunan An Nasai

مرنے والے پر اظہار غم سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ، يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَهَلَكَ، فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ فَحَزِنَ عَلَيْهِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَالِي لَا أَرَى فُلَانًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بُنَيُّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ، فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمُرَكَ أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ، يَفْتَحُهُ لَكَ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ: فَذَاكَ لَكَ.

قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مرگیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کردیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مرگیا، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مرگیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے ایسا (ہی) ہوگا ۔

Mu awiyah bin Qurrah narrated that his father said: "When the Prophet of Allah sat, some of his Companions would sit with him. Among them was a man who had a little son who used to come to him from behind, and he would make him sit in front of him. He (the child) died, and the man stopped attending the circle because it reminded him of his son, and made him feel sad. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) missed him and said: Why do I not see so-and-so? They said: O Messenger of Allah, his son whom you saw has died. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) met him and asked him about his son, and he told him that he had died. He offered his condolences and said: O son-and-so, which would you like better, to enjoy his company all you life, or to come to any of the gates of Paradise on the Day of Resurrection, and find that he arrived there before you, and he is opening the gate for you? he said: O Prophet (صلی اللہ علیProphet of to the gate of Paradise before me and open it for me is dearer to me. He said: You will have that."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2088
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٧١ (صحیح )
2091Sunan An Nasai

ایک دوسری قسم کی تعزیت سے متعلق فرمان نبوی ﷺ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَهْ، قَالَ: الْمَوْتُقَالَ: فَالْآنَ،فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چناچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کردی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہوگا، (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا: تب تو ابھی (مرنا بہتر ہے) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The angel of death was sent to Musa. Peace be upon him, and when he came to him, he slapped him and put his eye out he went back to his Lord and said: Go back to him and tell him to put his hand on the back of a bull, and of every hair that his hand covers he will have one year. He said: O Lord, then what? He said; Death. He said: Let me go now. And he (Musa) asked his Lord to bring him within a stones throw of the Holy Land, the distance of a stones throw. The Messenger of Allah said: If I where there, I would show you his grave, beside the road beneath a red dune."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2089
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦٨ (١٣٣٩)، والأنبیاء ٣٣ (٣٤٠٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٤٢ (٢٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٩)، مسند احمد ٢/٢٦٩- ٣١٥ (صحیح )