جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 13 of 14

2059Sunan An Nasai

قبر کے میت کو دبانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ.

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آیت کریمہ يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت (دونوں میں) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد ﷺ کا دین ہے۔ اللہ کے قول: يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة سے یہی مراد ہے ۔

It was narrated form Al Bara bin Azib that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah will keep firm those who believe, with the world that stands firm in this world, and in the Hereafter. This was revelated concerning the torment in the grave. It will be said to him (the deceased: Who is your Lord? and he will say: My Lord is Allah and my Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) is Muhammad. That is what is (the meaning of) His saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world, and in the Hereafter".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2057
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (١٣٦٩)، و تفسیر سورة ابراھیم ٢ (٤٦٩٩)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١)، سنن ابی داود/السنة ٢٧ (٤٧٥٠، ٤٧٥٣)، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراھیم (٣١١٩)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٢)، مسند احمد ٤/٢٨٢، ٢٩١ (صحیح )
2060Sunan An Nasai

قبر کے میت کو دبانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَقَالَ: مَتَى مَاتَ هَذَا ؟قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا: یہ کب مرا ہے؟ لوگوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا: اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے ۔

It was narrated from Anas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) heard a sound from a grave and said: "When died this man die?" They said: "he died during the Jahiliyyah." So he was delighted and said: "Were it not that you would not bury one another, I would have prayed to Allah to make you hear the torment of the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2058
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧١١)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٨)، مسند احمد ٣/١٠٣، ١١١، ١١٤، ١٥٣، ١٧٥، ١٧٦، ٢٠١، ٢٧٣، ٢٨٤ (صحیح )
2061Sunan An Nasai

قبر کے میت کو دبانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا.

ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا: یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں ۔

It was narrated that Abu Ayyub said: "The Messenger of Allah went out after the sun had set, and heard a sound. He said (It is ) Jews being tormented in their graves.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2059
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٥)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٩)، (تحفة الأشراف: ٣٤٥٤)، مسند احمد ٥/٤١٧، ٤١٩ (صحیح )
2062Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من عذاب النار وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah used to say: "Allahumma inni a udhu bika min adhabil-qabri wa a udhu bika min adhabin-nar, wa a udhu bika min fitnatil-mahya wal-mamat, wa audhu bika min fitnatil-masihid-dajjal (O Allah, I seek refuge with you from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the torment of the Fire, and I seek refuge with You from the trial of the Dajjal)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2060
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٥)، صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٧)، مسند احمد ٢/٤١٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ٥٥٠٨ (صحیح )
2063Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah after that seeking refuge with Allah from the torment of the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2061
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: یہودی عورت کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد آپ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنی شروع کردی تھی، دیکھئیے حدیث رقم: ٢٠٦٦ ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٨٤) (صحیح )
2064Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ ؟ قَالَ: قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ.

اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے (اور) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ ﷺ کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہوگئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: (آپ نے فرمایا تھا:) مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہوگی ۔

Urwah bin Az-Zubair (narrated) that he heard Asma bint Abi Bakr say: "The Messenger of Allah stood up and mentioned the trail with which a person will be tested in his grave. When he mentioned that the people became restless, which prevented me from understanding what the Messenger of Allah had said. When they settled down, I said to a man who was near me: May Allah bless you, what did the end? he said: It has been revealed to me that you will be tested in your graves with a trial close to that of the Dajjal."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2062
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٦)، والوضوء ٣٧ (١٨٤)، والجمعة ٢٩ (١٠٥٣)، والکسوف ١٠ (١٠٦١)، والجنائز ٨٦ (١٣٧٣) مختصراً، والاعتصام ٢ (٧٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢٨)، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٥)، موطا امام مالک/الکسوف ٢ (٤)، مسند احمد ٦/٣٤٥، ٣٥٤ (صحیح )
2065Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو: اللہم إنا نعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے ۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas that: The Messenger of Allah used to teach them this supplication as he taught them surahs of the Quran: Allahumma inna naudhu bika min adhabil-qabri wa audhu bika min fitnatil-masihid-dajjal, wa audhu bika min fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, We seek refuge with You from the torment of Hell, and I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the trail of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge with You from the trails of life and death.)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2063
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٠)، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣٣)، مسند احمد ١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٥١٤ (صحیح )
2066Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ گھبرا گئے، اور فرمایا: صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہوگی ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں (بھی) قبروں میں آزمایا جائے گا ، اس کے بعد سے میں رسول اللہ ﷺ کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah came to me and there was a Jewish woman with me who was saying: You will be tested in your graves. The Messenger of Allah got upset and said: Rather the Jews will be tested." Aishah said: "A few nights later, the Messenger of Allah said: It has been revealed to me that you will be tested in your graves." Aishah said; "Afterward I heard the Messenger of Allah seeking refuge with Allah from the torment of the grave.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2064
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٧١٢)، مسند احمد ٦/٨٩، ٢٣٨، ٢٤٨، ٢٧١ (صحیح )
2067Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَقَالَ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے: تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ۔

It was narrated from Aishah that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to seek refuge with Allah from the torment of the grave and the trial of the Dajjal, and he said: "You will be tested in your graves."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2065
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٩٤٤)، ویأتی برقم: ٥٥٠٦ (صحیح الإسناد )
2068Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی (اور) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ ؓ نے اسے دیا تو اس نے کہا: اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے! عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں ۔

It was narrated from Aishah that: a Jewish woman came to her and asked her to give her something, so Aishah gave her something, and she said: "May Allah protect you from the torment of the grave." Aishah said:" She made me worried, until the Messenger of Allah came and I mentioned that to him. He said: They are tormented in their graves with a torment that the animals hear."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2066
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٣٧ (٦٣٦٦)، صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١١)، مسند احمد ٦/٤٤، ٢٠٥ (صحیح الإسناد )
2069Sunan An Nasai

عذاب قبر سے پناہ کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَ: صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، (اور) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں (تبھی) رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں ، (پھر) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔

It was narrated that Aishah said: "Two of the old Jewish women of Al-Madinah came to me and said: The people of the graves are tormented in their graves. But I did not believe them, and I did not believe them, and I did not want to believe them. They left and the Messenger of Allah entered upon me, and I said: O Messenger of Allah, two of the old Jewish women of Al-Madinah said that the people of the graves are tormented in their graves. He said: They spoke the truth. They are tormented in a manner that all the animals can hear. And I never saw him offer any Salah but he sought refuge with Allah from the torment of the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2067
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2070Sunan An Nasai

قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ، سَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ مکہ یا مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ١ ؎، بلکہ ان میں سے ایک اچھی طرح اپنے پیشاب سے پاکی نہیں حاصل کرتا تھا، اور دوسرا چغل خوری ٢ ؎ کرتا تھا ، پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی (اور) اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا، تو آپ سے سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے فرمایا: شاید ان کے عذاب میں نرمی کردی جائے جب تک یہ دونوں (ٹہنیاں) خشک نہ ہوں ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے ما لم ييبسا أو أن ييبسا فرمایا، یا إلى أن ييبسا فرمایا۔

It was narrated that: The Messenger of Allah passed by one of the gardens of Makkah or Al-Madinah and heard the sound of two men being tormented in their graves. The Messenger of Allah said: "They are being punished but they are not being punished for anything that was difficult to avoid." Then he said: "Indeed, one of them used not to take care to avoid getting urine on his body or clothes, and the other used to walk around spreading gossip." They he called for a palm stalk which he broke in two and placed a piece of it on each grave. It was said to him: "O Messenger of Allah, why did you do that?" He said: "May it be reduced for them so long as this does not dry out" or: "until this dries out."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2068
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے کا مطلب ہے ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا جرم نہیں ورنہ شریعت کی نظر میں تو وہ بڑا جرم تھا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کبیر سے مراد ہے کہ ان کا ترک کرنا کوئی زیادہ مشکل امر نہیں تھا اگر چاہتا تو آسانی سے اس گناہ سے بچ سکتا تھا۔ ٢ ؎: دو آدمیوں میں فساد ڈالنے کی نیت سے ایک بات دوسرے تک پہنچانے کا نام چغل خوری ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١ (صحیح )
2071Sunan An Nasai

قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی (اور) اسے آدھا آدھا چیر دیا، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا ، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کردیا جائے جب تک یہ دونوں (ٹہنیاں) خشک نہ ہوں ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah passed by two graves and said: "They are being punished but they are not being punished for anything that was difficult to avoid. One of them used not to take care to avoid getting urine on his body or clothes, and the other used to walk about spreading gossip. Then he took a fresh palm stalk and broke it in half, and planted one half on each grave. They said: O Messenger of Allah, why did not do that? He said: May it be reduced for them so long as this does not dry out."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2069
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١ (صحیح )
2072Sunan An Nasai

قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سنو! جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When one of you dies he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of paradise them he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell, until Allah, the Mighty and Sublime, raises him up on the Day of Resurrection."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2070
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اٹھائے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، اور وہ اپنے اس ٹھکانے میں پہنچ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩)، وبدء الخلق ٨ (٣٢٤٠)، والرقاق ٤٢ (٦٥١٥)، (تحفة الأشراف: ٨٢٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٧٠ (١٠٧٢)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٧٠)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧)، مسند احمد ٢/١٦، ٥١، ١١٣، ١٢٣ (صحیح )
2073Sunan An Nasai

قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، قِيلَ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چناچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں (کے ٹھکانوں) میں سے (پیش کیا جائے گا) ، اور کہا جاتا ہے: یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah said: "When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of hell it is said: This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2071
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨١٢٥) (صحیح )
2074Sunan An Nasai

قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کا ٹھکانا اس پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنتیوں (کے ٹھکانوں) میں سے، اور اگر جہنمی ہے تو جہنمیوں (کے ٹھکانوں) میں سے، (اور اس سے) کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل تمہیں قیامت کے روز اٹھائے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah said: "When one of you dies, he is shown his place morning and evening. If he is one of the people of Paradise then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell. It is said: This is your place, until Allah, the Mighty and Sublime, raises you up on the Day of Resurrection."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2072
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٦١)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧)، مسند احمد ٢/١١٣ (صحیح )
2075Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے ۔

Ka b bin Malik used to narrate that the Messenger of Allah said: "The soul of the belevier is (like a bird) flying among the trees of Paradise, until Allah, the Mighty and sublime, sends it back to his body on the Day of Resurrection." (Da if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2073
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٣ (١٦٤١)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٩)، والزھد ٣٢ (٤٢٧١)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٨)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٩)، مسند احمد ٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠، ٦/٣٨٦ (صحیح )
2076Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ: هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًاقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَىيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا، فَقَالَ عُمَرُ: تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر ؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (کافروں کے) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہوگی، اور فلاں کی یہاں ، عمر ؓ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چناچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، (پھر) نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، (اور) پکارا: اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا ، اس پر عمر ؓ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ۔

It was narrated that Anas said: "We were with Umar between Makkah and Al-Madinah, when he strted to tell us about the people of Badr. He said: The Messenger of Allah showed us the day before where they (the disbelivers) would fall. He said: This is the place where so-and-so will fall tomorrow, if Allah wills. Umar said: By the One Who sent him with the truth! They did not miss those places, They were placed in a well and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to them and called out: O so-and-so, son of so-and-so! O so-and-so, son of so-andso! Have you found what your Lord promised to be true? Of I have found what allah promised me to be true. Umar said: Are you speaking to bodies in which there are no souls? He said: You do not hear what I say any better than they do."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2074
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٠)، مسند احمد ١/٢٦ (صحیح )
2077Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِييَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ ﷺ کو کھڑے آواز لگاتے سنا: اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ) وہ جواب نہیں دے سکتے ۔

It was narrated that Anas said: "During the night, the Muslims heard the Messenger of Allah standing and calling out at the well of badr; O Abu Jahl bin Hisham! O Shaaibh bin Rabiah! O Utbah bin Rabiah! O Umayyah bin Khalaf! Have you found what your Lord promised to be true? For I have found what my Lord promised me to be true. They said: O Messenger of Allah, are you calling out to people who have turned into rotten corpses? He said: You do not hear what I say any better than they do, but they cannot answer."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2075
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧١٣)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٤)، مسند احمد ٣/١٠٤، ٢٢٠، ٢٦٣ (صحیح )
2078Sunan An Nasai

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ: هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ، فَذُكِرَ ذَلِكَلِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے (اور) فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟ (پھر) آپ نے فرمایا: اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں ، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے (یوں) کہا تھا: یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: إنک لا تسمع الموتى (النمل: ٨٠ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stood at the well of Badr and said: "Have you found what your Lord promised to be true?" he said: "They can hear what I am saying to them now". Mention of that was made to Aishah and she said: "Ibn Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: "Ibn Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: Now they know that what I used to say to them is the truth. Then she recited: So verily, you (O Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2076
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨ (٣٩٨٠)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٣)، مسند احمد ٢/٣٨ (صحیح )