Sunan An Nasai 4450

قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ

4450Sunan An Nasai

جو کوئی بلاوجہ کسی چڑیا کو ہلاک کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا حَقُّهَا ؟، قَالَ: حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا، فَيُرْمَى بِهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr, who attributed it to the Messenger of Allah ﷺ: "There is no person who kills a small bird or anything larger, for no just reason, but Allah will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah, what does just reason mean?" He said: "That you slaughters it and eat it, and o not cut off its head and throw it aside.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4445
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٥٤ (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٩٩٩، تراجع الالبانی ٤٥٨ )