لوگوں کا عیدگاہ میں قربانی کرنا
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
جندب بن سفیان ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید الاضحی میں تھا، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی، جب نماز مکمل کرلی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں (نماز سے پہلے ہی) ذبح کردی گئیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے ١ ؎۔
It was narrated that Jundub bin Sufyan said: "I attended (the day of) sacrifice with the Messenger of Allah ﷺ He led the people 9in prayer, then when he finished praying he saw some sheep that had been sacrificed. He said Whoever slaughtered (his sacrifice) before the prayer. Let him slaughtered (his sacrifice) before the prayer, let him slaughter a sheep in its place, and whoever has not slaughtered, let him offer a sacrifice in the name of Allah, the Mighty and Sublime.