Sunan An Nasai 3335

نکاح سے متعلقہ احادیث

3335Sunan An Nasai

والد کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنے والے شخص سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فقلت أين تريد ؟ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ.

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کردینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرلی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Bara said: "I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: Where are you going? He said: The Messenger of Allah is sending me to a man who has married his fathers wife after he died, to strike his neck or kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3331
Notes · وضاحت
١ ؎: راوی ( براء ) کو شک ہوگیا ہے کہ ماموں نے أن أضرب عنقہ میں اس کی گردن مار دوں کہا یا أقتلہ میں اسے قتل کر دوں کہا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٧ (٤٤٥٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٥ (١٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٥ (٢٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٤)، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥، ٢٩٧)، سنن الدارمی/النکاح ٤٣ (٢٢٨٥) (صحیح )