شغار کی تفسیر
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَالشِّغَارُ كَانَ الرَّجُلُ يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ أُخْتَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے عبیداللہ (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں: شغار یہ تھا کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرتا تھا کہ دوسرا اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کر دے (بغیر کسی مہر کے) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ash-Shighar." (One of the narrators) Ubaidullah said: "Ash-Shighar means when a man gives his daughter in marriage on condition that (the other man) gives him his sister in marriage.