Sunan An Nasai 3364

نکاح سے متعلقہ احادیث

3364Sunan An Nasai

کسی کے واسطے شرم گاہ حلال کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ.

نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ١ ؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ٢ ؎۔

It was narrated from An-Numan bin Bashir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said, concerning a man who had intercourse with his wifes slave woman: "If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes, and if she did not let him, I will stone him (to death).

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3360
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بغیر جائز صورت کے کسی کے لیے کسی کی شرمگاہ حلال نہیں ہوتی، اس لیے بطور تأدیب اسے سو کوڑے لگیں گے۔ ٢ ؎: اس لیے کہ اس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اکثر اہل علم کا عمل اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی بیوی کی لونڈی سے اگر جماع کرے تو اس پر حد نہیں پڑے گی۔ ان کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر کو اس مسئلہ میں دھوکا ہوگیا ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٥٨)، سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، مسند احمد (٤/٢٧٢، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” حبیب بن سالم “ میں بہت کلام ہے، نیز خطابی کے بقول: نعمان رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے )