رشک اور حسد
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُلَيْتٍ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ، فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَفَّارَتِهِ، فَقَالَ: إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ ؓ کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I never saw any woman who made food like Safiyyah. She sent a dish to the Prophet ﷺ in which was some food, and I could not keep myself from breaking it. I asked the Prophet ﷺ what the expiation was for that, and he said: ‘A dish like that dish, and food like that food.” (Hasan)