Sunan An Nasai 1599

رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

1599Sunan An Nasai

گھروں میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِالْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔

It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar said: "Pray in your houses and do not make them like graves."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1598
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٥٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥٢ (٤٣٢)، التھجد ٣٧ (١١٨٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٧٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٣)، ٣٤٦ (١٤٤٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٤ (٤٥١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٦ (١٣٧٧)، مسند احمد ٢/٦، ١٦، ١٢٣ (صحیح )