ربیعہ بن کعب الاسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے کمرے کے پاس رات گزارتا تھا، تو میں آپ کو سنتا جب آپ رات میں اٹھتے، تو دیر تک سبحان اللہ رب العالمين کہتے، پھر سبحان اللہ وبحمده دیر تک کہتے۔
It was narrated that Rabiah bin Kab Al-Aslami said: "I used to stay overnight at the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s (صلی اللہ علیہ وسلم) apartment and I used to hear him when he prayed Qiyam at night saying: Subhan Allahi Rabil-Alamin (Glory be to Allah, the Lord of the worlds) for a long time, then he said: Subhan Allah wa bi hamdih (Glory and praise be to Allah) for a long time."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1618
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: اللہم لک الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت ملک السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت حق ووعدک حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك أسلمت وعليك توکلت وبک آمنت اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا روشن کرنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا قائم و برقرار رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جوان میں ہیں سب کا بادشاہ ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور محمد حق ہیں، میں نے تیری ہی فرمانبرداری کی، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تجھی پر ایمان لایا ، پھر قتیبہ نے ایک بات ذکر کی اس کا مفہوم ہے (کہ آپ یہ بھی کہتے:) وبک خاصمت وإليك حاکمت اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا باللہ اور تیرے ہی لیے میں نے جھگڑا کیا، تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لیے آیا، بخش دے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود مگر تو ہی، اور نہ ہی کسی میں زور و طاقت ہے سوائے اللہ کے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got up at night to pray Tahajjud, he said: Allahumma, lakal-hamdu anta nurus-samawati wal-ardi wa man fihinna wa lakal-hamdu anta qayyamus-samawati wal ardi wa man fihinna wa lakal-hamdu, anta haqqun wa waduka haqqun wal jannatu haqqun wan-nuru haqqun wan-nabiyyuna haqqun wa Muhammadan haqqun, laka aslant wa alaika tawakkaltu wa bika amant. ( O Allah, to You be praise, You are the Light of the heavens and earth and whoever is in them. To You be praise, You are the Sustainer of the Heavens and the earth and whoever is in them. To You be praise, You are the Sovereign of the heavens and earth and whoever is in them. To You be praise; You are True, Your promise is true, Paradise is true, Hell is true, the Hour is true, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s are true and Muhammad is true. To You have I submitted, in You I put my trust and in You I have believed." Then (one of the narrators) Qutaibah mentioned some words the meaning of which was: "Wa bika khasamtu wa ilaika hakamtu, ighfirli ma quadrate wa ma akhkhartu wa ma alantu antal-muqaddimu wa antal-mukhkhir, la ilaha illa anta wa la hawla wa la quwwata illa billah (And with Your help I argue [with my opponents, the non-believers], and I take You as a judge [to judge between us]. Forgive me my past and future sins and those that I commit openly. You are the One who puts [some people] back and bring [others] forward. There is no God but You and there is no power and no strength except with Allah)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1619
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ ؓ کے پاس رات گزاری (وہ ان کی خالہ تھیں) تو وہ تکیہ کے چوڑان میں لیٹے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اہلیہ دونوں اس کی لمبان میں، رسول اللہ ﷺ سوئے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس کے کچھ بعد تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے، چہرہ سے نیند بھگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر آپ نے سورة آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، اور اس سے وضو کیا تو خوب اچھی طرح سے وضو کیا، پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر آپ نے وتر پڑھی ١ ؎ پھر آپ لیٹے یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ نے پھر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔
It was narrated from Kuraib that Abdullah bin Abbas told him: He slept at the house of Maimunah the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who was his maternal aunt. He said: "I laid down across the mattress an the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and his wife lay along it. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) slept until midnight, or a little before or a little after. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) woke up and began to rub the sleep from his face with his hand. Then he recited the last ten verses of Surah Al Imran. Then he got up and went to a water skin that was hanging up and performed wudu from it, and he performed wudu well, then he stood up and prayed." Abdullah bin Abbas said: "I stood up and did what he had done, then I went and stood beside him. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put his right hand on my neck, and took old of my right hand and tweaked it. Then he prayed two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then he prayed witr.Then he lay down until the Muadhdhin came to him and he prayed two brief rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1620
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک رکعت وتر پڑھی، اگر تین رکعتیں پڑھی ہوتیں تو پھر یہ کل پندرہ رکعتیں ہوجائیں گی، اور آپ کی تہجد کی نماز کے سلسلے میں یہ کسی کے نزدیک ثابت نہیں ہے، صحیح بخاری کی ایک روایت میں تیرہ رکعتوں کی صراحت موجود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْحُذَيْفَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔
It was narrated that Hudhaifah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) got up to pray tahajjud at night, he would brush his teeth with the siwak.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1622
ابوسنان ابوحصین سے وہ ابو وائل شقیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے کہا: جب ہم رات میں بیدار ہوتے تو ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
It was narrated that Hudhaifah said: "We were commanded to use the siwak when we got up to pray at night."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1623
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اختلاف ہے کہ اوروں نے اس کو نبی اکرم ﷺ کے عمل کے طور پر روایت کیا ہے، جب کہ ابوحصین عثمان نے اس کو اس سند سے جو حکماً مرفوع ہے قول رسول کے طور پر روایت کیا ہے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی نماز کی شروعات کس چیز سے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ جب رات میں اٹھ کر اپنی نماز شروع کرتے تو کہتے: اللہم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحکم بين عبادک فيما کانوا فيه يختلفون اللہم اهدني لما اختلف فيه من الحق إنک تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم اے اللہ! اے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے، اے اللہ! جس میں اختلاف کیا گیا ہے اس میں تو میری رہنمائی فرما، تو جس کی چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے ۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "I asked Aishah: With what did the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) start his prayer? She said: When he got up to pray at night he would start his prayer with the words: Allahumma Rabba Jibril wa Maikail wa Israfil; Fatirus-samawati wal-ard, alim al-ghaybi wash-shahadah, anta tahkumu bayna ibadika fima kanu fihi yakhtalifun, Allahumma ihdini limakktulifa fihi min al-haqq innaka tahdi man tashaila siratin mustaqim (O Allah, Lord of Jibril, Mikail and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You judge between Your slaves concerning wherein they differ. O Allah, guide me to the disputed matters of truth for You are the One Who guides to the Straight Path)."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1625
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے توافق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: ربنا ما خلقت هذا باطلا اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے (آل عمران: ١٩١ ) یہاں تک کہ آپ إنک لا تخلف الميعاد بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا (آل عمران: ١٩٤ ) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فجر سے پہلے تین مرتبہ (اسی طرح) کیا۔
It was narrated that Ibn Shihaab said: "Humaid bin Abdur-Rahman bin Awf told me that a man from among the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I said, when I was on a journey with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): By Allah (SWT), I am going to watch the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and see what he does. When he prayed Isha, he lay down for a long time. Then he woke up and looked toward the horizon and said: "Our Lord! You have not created (all) this without purpose" until he reached: "for You never break (Your) Promise." Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) reached across his bed and took a siwak from it, then he poured water from a vessel and cleaned his teeth. Then he stood and prayed until I said: He has prayed for as long as he has slept. Then he lay down until I said: He has slept as long as he prayed. Then he woke up and did the same as he had done the first time and said the same as he had said. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did that three times before Fajr."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1626
انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز (تہجد) پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے، اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "Every time we wanted to see the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) praying at night we saw him, and every time we wanted to see him sleeping, we saw him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1627
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آپ رات میں سوتے بھی تھے، اور نماز بھی پڑھتے تھے، نہ ساری رات جاگتے ہی تھے، اور نہ ساری رات سوتے ہی تھے۔
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ عتمہ (عشاء کی نماز) پڑھتے تھے پھر سنتیں پڑھتے، پھر اس کے بعد رات میں جتنا اللہ چاہتا پڑھتے، پھر آپ واپس جا کر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر سوتے، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہوتے تو جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر نماز پڑھتے، اور آپ کی یہ دوسری مرتبہ والی نماز صبح (فجر) تک جاری رہتی۔
Yala bin Mamlak said that he asked Umm Salamah about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and she said: "He used to pray Isha, then he would recite tasbih, then after that he would pray whatever Allah (SWT) willed (he should pray) of night prayer. Then he would go and sleep for as long as he had prayed. Then he would get up from sleep and pray for as long as he had slept, and this last prayer of his would continue until dawn."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1628
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٢٣ (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک لین الحدیث ہیں )
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار؟ ١ ؎ آپ نماز پڑھتے تھے، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں۔
It was narrated from Yala bin Mamlak that he asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about the recitation and prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: "What do you want to know about his prayer (I.e., you can never match it)? He used to pray, then sleep for as long as he had prayed, then he would pray as long as he had slept, then he would sleep as long as he had prayed, until dawn came." Then she described to him his recitation, and she described a clear recitation in which every letter was distinct.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1629
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تمہارا اسے پوچھنا بےسود ہے کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٢٣ (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود (علیہ السلام) کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔
It was narrated from Amr bin Aws that he heard Abdullah bin Amr bin Al-As say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud, peace be upon him. He used to fast one day and not the next. And the most beloved of prayer to Allah (SWT) is the prayer of Dawud. He used to sleep half the night, spend one-third of the night in prayer and sleep for one-sixth of it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1630
حماد بن سلمہ سلیمان تیمی سے، سلیمان تیمی ثابت سے اور ثابت انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سرخ ٹیلے کے پاس آیا، اور وہ کھڑے اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On the night on which I was taken on the Night Journey (Al-Isra) I came to Musa, peace be upon him, at the red dune, and he was standing, praying in his grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1631
سلیمان تیمی اور ثابت دونوں انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں الكثيب الأحمر سرخ ٹیلے کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ١ ؎ ہمارے نزدیک معاذ بن خالد کی حدیث سے زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
It was narrated from Anas that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I came to Musa at the red dune and he was standing and praying."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1632
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند کا عن سلیمان وثابت حرف عطف کے ساتھ ہونا عن سلیمان عن ثابت ہونے کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے۔
حماد بن سلمہ کہتے ہیں ہمیں ثابت اور سلیمان تیمی نے خبر دی ہے وہ دونوں انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
It was narrated from Anas that on the night on which he was taken on the Night Journey, the Prophet ﷺ passed by Musa, peace be upon him, and he was praying in his grave. (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1633
سلیمان تیمی روایت کرتے ہیں انس بن مالک ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں معراج کی رات میں موسیٰ وضاحت پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: On the night on which I was taken on the Night Journey, I passed by Musa, peace be upon him, and he was praying in his grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1634
معتمر بن سلیمان اپنے والد سے اور ان کے والد انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) پر سے گزرے اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
It was narrated from Anas that: On the night on which he was taken on the Night Journey, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by Musa, peace be upon him, and he was praying in his grave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1635
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے انس ؓ کو کہتے سنا ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ معراج کی رات میں موسیٰ (علیہ السلام) پر سے گزرے، اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
Mutamir said: "I heard my father say: I heard Anas say: One of the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told me that on the Night Journey, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by Musa, peace be upon him, and he was praying in his grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1636
سلیمان انس ؓ سے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں میں موسیٰ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
It was narrated from Anas, from on of the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: On the night on which I was taken on the Night Journey, I passed by Musa and he was praying in his grave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1637