رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 18 · 220 hadiths · Page 3 of 11

1639Sunan An Nasai

شب میں عبادت کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، وَبَقِيَّةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنِيالزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَاقَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا.

خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے (وہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھے) کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہوگئی، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب ؓ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی ۔

It was narrated from Abdullah bin Khabbab bin Al-Aratt, from his father who had been present at Badr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), that: He watched the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) one night when he prayed all night until Fajr time. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the taslim at the end of his prayer, Khabbab said to him: May my father and mother be ransomed for you O Messenger of Allah, last night you offered a prayer the like of which I have never seen you offer." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes indeed. This is a prayer of hope and fear in which I asked my Lord, the Mighty and Sublime, for three things, of which He gave me two and did not grant me one. I asked my Lord not to destroy us with which he destroyed the nations before us, and He granted me that. And I asked my Lord not to let an enemy from without prevail over us, and He granted me that. And I asked my Lord not to divide us into warring factions and He did not grant me that."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1638
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ١٤ (٢١٧٥)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٦)، مسند احمد ٥/١٠٨ (صحیح )
1640Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قال: قَالَتْعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاكَانَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ.

مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب (رمضان کا آخری) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری فرماتے، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور (عبادت کے لیے) کمر بستہ ہوجاتے تھے۔

It was narrated that Masruq said: "Aishah may Allah (SWT) be pleased with her, said: When the last ten nights of Ramadan began, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed up at night (for prayer) and he woke his family up and tightened his waist-wrap."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1639
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ٥ (٢٠٢٤)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٣ (١١٧٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧٦)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٧ (١٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٧)، مسند احمد ٦/٤٠، ٤١ (صحیح )
1641Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا صَدِيقًا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ بِهِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ.

ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس آیا، وہ میرے بھائی اور دوست تھے، تو میں نے کہا: اے ابوعمرو! مجھ سے وہ باتیں بیان کریں جن کو ام المؤمنین نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق بیان کیا ہے، تو انہوں نے کہا: وہ کہتی ہیں کہ آپ شروع رات میں سوتے تھے، اور اس کے آخر کو زندہ رکھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Ishaq said: "I came to Al-Aswad bin Yazid, who was a close friend of mine and said: O Abu Amr, tell me what the Mother of the Believers told you about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: She said: "He used to sleep for the first part of the night and stay up for the latter part."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1640
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات کے آخری حصہ میں جاگ کر عبادت کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد ١٥ (١١٤٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٢ (١٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٠)، مسند احمد ٦/١٠٢، ٢٥٣ (صحیح )
1642Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحَ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، یا رات بھر صبح تک عبادت کی ہو، یا پورے مہینے روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔

It was narrated that Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said: "I do not know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited the whole Quran in one night, or spent a whole night in worship until dawn, or that he ever fasted an entire month apart from Ramadan."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1641
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإقامة ١٧٨ (١٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢١٨٤، ٢٣٥٠ (صحیح )
1643Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ: فُلَانَةُ، لَا تَنَامُ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی تو آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں (عورت) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین (عمل) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے ۔

It was narrated from Aishah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came in to her and there was a woman with her. He said: "Who is this?" She said: "So-and-so, and she does not sleep." And she told him about how she prayed a great deal. He said: "Stop praising her. You should do what you can, for by Allah (SWT), Allah never gets tired (of giving reward) until you get tired. And the most beloved of religious actions to Him is that in which a person persists."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1642
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٢ (٤٣)، التھجد ١٨ (١١٥١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٢ (٧٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد ٢٨ (٤٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٠٧)، مسند احمد ٦/٥١، ویأتی عند المؤلف فی الإیمان ٢٩ برقم: ٥٠٣٨ (صحیح )
1644Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟، فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی، تو آپ نے پوچھا: یہ رسی کیسی ہے؟ تو لوگوں نے عرض کیا: زینب (زینب بنت جحش) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھولو اسے، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered the masjid and saw a rope tied between two pillars. He said: "What is this?" They said: "It is for Zainab when she prays; if she gets tired she holds on to it." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Untie it. Let any one of you pray as long as he has energy, and if he gets tired let him sit down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1643
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٨ (١١٥٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٨ (١٣١٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٤ (١٣٧١)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٣)، مسند احمد ٣/١٠١، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٥٦ (صحیح )
1645Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (نماز میں) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں (پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔

It was narrated that Ziyad bin Ilaqah said: "I heard Al-Mughirah bin Shubah say: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stood (in prayer at night) until his feet swelled up, and it was said to him: Allah has forgiven your past and future sins. He said: "Should I not be a thankful slave?"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1644
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٦ (١١٣٠)، تفسیر الفتح ٢ (٤٨٣٦)، الرقاق ٢٠ (٦٤٧١)، صحیح مسلم/المنافقین ١٨ (٢٨١٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٨ (٤١٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٠ (١٤١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٤٩٨)، مسند احمد ٤/٢٥١، ٢٥٥ (صحیح )
1646Sunan An Nasai

سیدہ عائشہ صدیقہ سے ّرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) رات میں عبادت سے متعلق روایات کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ وَكَانَ ثِقَةً، قال: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَزْلَعَ يَعْنِي تَشَقَّقُ قَدَمَاهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray until he developed fissures in his feet."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1645
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٢٩٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٠ (١٤٢٠) (صحیح )
1647Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، وَأَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

بدیل اور ایوب دونوں عبداللہ بن شفیق سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray for a long time at night. If he started to pray standing, he would bow standing and if he started to pray sitting, he would bow sitting."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1646
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٧٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٠ (١٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠١)، ١٦٢٠٣)، مسند احمد ٦/١٠٠، ٢٢٧، ٢٦١، ٢٦٢، ٢٦٥ (صحیح )
1648Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔

It was narrated hat Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray standing and sitting. If he started to pray standing, he would bow standing and if he started to pray sitting, he would bow sitting."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1647
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٢)، مسند احمد ٦/١١٢، ١١٣، ١٦٦، ٢٠٤، ٢٢٧، ٢٢٨، ٢٦٢ (صحیح )
1649Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، وَأَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہوجاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) ایسے ہی کرتے۔

It was narrated from Aishah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray when he was sitting. He would recite while sitting, then when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite while standing, then he bowed and prostrated, then he would do likewise in the second rakah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1648
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٢٠ (١١١٩)، التھجد ١٦ (١١٤٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٧٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٠ (١٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٩)، موطا امام مالک/الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد ٦/١٧٨ (صحیح )
1650Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ، فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہوگئے، تو (جب آپ بوڑھے ہوگئے) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورة میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔

It was narrated that Aishah said: "I never saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray sitting down until he grew old. Then he would pray sitting down and when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite them, then bow."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1649
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧١٣٩) (صحیح )
1651Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً.

عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر (باقی رہنے پر) کھڑے ہوجاتے۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite sitting, and when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty verses."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1650
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٠ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٠)، مسند احمد ٦/٢١٧ (صحیح )
1652Sunan An Nasai

نماز کے لئے کھڑے ہونے پر کیا کرے اور اس سلسلے میں راویان حدیث کا عائشہ صدیقہ سے روایت کرنے میں اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ: أَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ، قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَكَانَ، قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا يُغْفِي وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلُحِمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ وَإِلَى حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي سِتَّ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ وَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا أَغْفَى وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَمْ لَا حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَتْ: فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا ایسا کرتے تھے، میں نے کہا: اچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے، پھر جب آدھی رات ہوتی، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے، اور وضو کرتے، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال ؓ آپ کے پاس آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، تو یہ رسول اللہ ﷺ کی نماز تھی، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہوگئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا، وہ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے، تو جب آدھی رات ہوجاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے، پھر وضو کرتے، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال ؓ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، وہ کہتی ہیں: تو برابر یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز رہی۔

It was narrated that Sad bin Hisham bin Amir said: " I came to Al-Madinah and entered upon Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her. She said: Who are you? I said: I am Sad bin Hisham bin Amir. She said: May Allah have mercy on your father. I said: Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did such and such. I said: Yes indeed. She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray Isha at night, then he would go to his bed and sleep. In the middle of the night, he would get up to relieve himself and go to his water for purification and perform wudu. Then he went into the Masjid and prayed eight rakahs. I think he made the recitation, bowing and prostration equal in length. Then he prayed one rakah of witr, then he prayed two rakahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray. This is how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray until he grew older and gained weight"- and she mentioned whatever Allah (SWT) willed about his gaining weight. She said: "And the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to lead the people in praying witr, then he would go to his bed. In the middle of the night, he would get up and go to water for purification, and to relieve himself, then he would perform wudu. Then he would go into the masjid and pray six rakahs, and I think he made the recitation, bowing, and prostration equal in length. Then he prayed one rakah of witr, then he prayed two rakahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray." She said: "And this is how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) continued to pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1651
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩٦)، مسند احمد ٦/٩١، ٩٧، ١٦٨، ٢١٦، ٢٢٧، ٢٣٥، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٧٢٣، ١٧٢٥ (صحیح )
1653Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَنِعُ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ، وَمَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاهَا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا، خَالَفَهُ يُونُسُ، رَوَاهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں میرے چہرے سے نہیں بچتے تھے ١ ؎ اور آپ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ عمل آپ کے نزدیک وہ تھا جس پر آدمی مداومت کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ یونس نے عمر بن ابی زائدہ کی مخالفت کی ہے یونس نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے اسود سے اور اسود نے ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not refrain from (kissing) my forehead when he was fasting, and he did not die until most of his prayers were offered sitting down." Then she said something to the effect that (referred to the prayers) other than the obligatory prayers. "And the dearest of actions to him was that in which a person persists, even if it is little."

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1652
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی روزے کی حالت میں بوسہ وغیرہ لینے سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٢)، مسند احمد ٦/١١٣، ٢٥٠ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ درجہ کی ہے )
1654Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَقَالَا: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔

It was narrated from Al-Aswad, that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers."

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1653
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨١٤٥)، مسند احمد ٦/٢٩٧، وانظر مایأتی (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ درجہ کی ہے )
1655Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْفَرِيضَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر و بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔

It was narrated from Abu Salamah, that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers, and the dearest of actions to him were those which were done persistently, even if they were few."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1654
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٠ (١٢٢٥)، الزھد ٢٨ (٤٢٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٦)، مسند احمد ٦/٣٠٤، ٣٠٥، ٣١٩، ٣٢٠، ٣٢١، ٣٢٢ (صحیح )
1656Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ، خَالَفَهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرَوَاهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ ﷺ کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے، اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ابواسحاق کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Salamah, that Umm Salamah said: "By the One in Whose Hand is my soul. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers, and the dearest of actions to him were those which were done persistently, even if they were few."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1655
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت اس طرح ہے کہ عثمان نے ام سلمہ کی جگہ عائشہ کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1657Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّعَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ.

ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ ؓ نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔

Abu Salamah narrated that Aishah told him: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not die until most of his prayers were offered sitting down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1656
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن الترمذی/الشمائل ٣٩ (٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٤)، مسند احمد ٦/١٦٩ (صحیح )
1658Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کردیا۔

It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "I said to Aishah: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray sitting down? She said: Yes, after the people had worn him out."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1657
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١٤)، مسند احمد ٦/١٧١، ٢١٨ (صحیح )