رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 18 · 220 hadiths · Page 4 of 11

1659Sunan An Nasai

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کے بیان میں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہوجاتی۔

It was narrated that Hafsah said: "I never saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) offer his voluntary prayers sitting down until one year before his death. Then he used to pray sitting down, reciting the surah so slowly that it seemed to be longer than a surah that is longer."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1658
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٢)، موطا امام مالک/الجماعة ٧ (٢١)، مسند احمد ٦/٢٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٩ (١٤٢٥، ١٤٢٦) (صحیح )
1660Sunan An Nasai

نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی بیٹھ کر (نماز) پڑھنے والے پر فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقُلْتُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ: إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے آدھی ہوتی ہے، اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم لوگوں کی طرح نہیں ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) praying sitting down and I said: I was told that you said that the prayer of one who is sitting down is worth half of the prayer of the one who is standing up. He said: Yes indeed, but I am not like any one of you."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1659
Notes · وضاحت
١ ؎: میرا معاملہ تم لوگوں سے جداگانہ ہے، میں خواہ بیٹھ کر پڑھوں یا کھڑے ہو کر میری نماز میں کوئی کمی نہیں رہتی، بیٹھ کر پڑھنے میں بھی مجھے پورا ثواب ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٧)، مسند احمد ٢/١٦٢، ١٩٢، ٢٠١، ٢٠٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح )
1661Sunan An Nasai

نماز بیٹھ کر پڑھنے والے کی لیٹ کر پڑھنے والے پر فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الَّذِي يُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: جس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی وہ سب سے افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کا آدھا ثواب ملے گا، اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے آدھا ملے گا ١ ؎۔

It was narrated that Imran bin Husain said: "I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about one who prays sitting down. He said: Whoever prays standing up is better, and one who prays sitting down will have half the reward of one who prays standing up. And whoever prays lying down will have half the reward of one who prays sitting down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1660
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے آدھا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة ١٧ (١١١٥)، ١٨ (١١١٦)، ١٩ (١١١٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤١ (١٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣١)، مسند احمد ٤/٤٢٦، ٤٣٣، ٤٣٥، ٤٢ ٤، ٤٤٣ (صحیح )
1662Sunan An Nasai

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَا أَحْسِبُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا خَطَأً وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) praying while sitting cross-legged."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1661
Notes · وضاحت
١ ؎: علم حدیث کے قواعد کے مطابق اس کے صحیح ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں، امام ابن خزیمہ نے بھی اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٦)، انظر صحیح ابن خزیمة ٩٧٨ (صحیح )
1663Sunan An Nasai

رات کو قرأت کرنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَكَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ، قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ.

عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔

It was narrated that Abdullah bin Abi Qais said: "I asked Aishah: "How did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recite at night- did he recite loudly or silently?" She said: He used to do both; sometimes he recited loudly and sometimes he recited silently."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1662
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨٦) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٣ (٤٤٩)، مسند احمد ٦/١٤٩ (صحیح )
1664Sunan An Nasai

آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ، وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Kathir bin Murrah that Uqbah bin Amir told them that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The one who recites the Quran loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Quran silently is like the one who gives charity in secret."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1663
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صرف نفلی نماز ہے، ورنہ مغرب، عشاء، فجر اور جمعہ کی نماز میں جہر کرنا واجب ہے، جس طرح فرض و نفل صدقہ کا معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١٥ (١٣٣٣)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٠ (٢٩١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٩)، مسند احمد ٤/١٥١، ١٥٨، ٢٠١، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٥٦٢ (صحیح )
1665Sunan An Nasai

آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورة البقرہ شروع کردی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورة پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورة نساء شروع کردی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورة آل عمران شروع کردی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبحان ربي العظيم پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔

It was narrated that Hudhaifah said: "I prayed with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) one night. He started to recite Al-Baqarah and I thought, he will bow when he reaches one hundred, but he carried on. I thought, he is going to recite the whole surah in one rakah, but he carried on. He started to recite An-Nisa and recited (the whole surah), then he started to recite Al Imran and recited (the whole surah), reciting slowly. When he reached a verse that spoke of glorifying Allah (SWT), he glorified Him. When he reached a verse that spoke of supplication, he made supplication. When he reached a verse that spoke of seeking refuge with Allah, he sought refuge with Him. Then he bowed and said: Subhana Rabbiyal-Azim.(Glory be to my Lord Almighty), and he bowed for almost as long as he had stood. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), and he stood for almost as long as he had bowed. Then he prostrated and started to say: Subhana Rabbiyal-Ala (Glory be to my Lord Most High), and he prostrated for almost as long as he had bowed."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1664
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٠٩ (صحیح )
1666Sunan An Nasai

آہستہ (آواز سے) پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ثِقَةٌ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ جَلَسَ، يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، فَمَا صَلَّى إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ إِلَى الْغَدَاةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي مُرْسَلٌ وَطَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ لَا أَعْلَمُهُ سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ شَيْئًا، وَغَيْرُ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے رکوع کیا، اور یہ اتنا ہی لمبا تھا جتنا آپ کا قیام تھا، آپ نے اپنے رکوع میں سبحان ربي العظيم کہا، پھر آپ اتنی ہی دیر بیٹھے جتنی دیر کھڑے تھے، اور رب اغفر لي رب اغفر لي کہتے رہے، پھر آپ ﷺ نے اتنی دیر تک سجدہ کیا جتنی دیر تک آپ کھڑے تھے، اور سبحان ربي الأعلى کہتے رہے تو آپ نے صرف چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ بلال ؓ صبح کی نماز کے لیے بلانے آگئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک مرسل (منقطع) ہے، میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حذیفہ ؓ سے کچھ سنا ہے، علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں یوں کہا: عن طلح ۃ ، عن رجل، عن حذیف ۃ ۔

It was narrated from Hudhaifah that: He prayed with the Messenger of Allah during Ramadan. He bowed and said: "Subhana Rabbiyal-Azim while bowing, for as long as he had stood. Then he sat down and said: "Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me)," for as long as he had stood. Then he prostrated and said: "Subhana Rabbiyal-Ala for as long as he had stood And he prayed no more than four rakahs when Bilal came for Al-Ghadah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1665
Takhrij · تخریج
انظر الأرقام: ١٠٠٩، ١٠١٠، ١٠٧٠، ١١٤٦ (صحیح )
1667Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ٢ ؎ واللہ اعلم۔

It was narrated from Yala bin Ata that he heard Ali Al-Azdi (say) that he heard Ibn Umar (RA) narrate that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The prayers of the night and day are two by two."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1666
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ٢ ؎: اس سے ان کی مراد والنہار کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٢ (١٢٩٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (الجمعة ٦٥) (٥٩٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٢ (١٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٩)، مسند احمد ٢/٢٦، ٥١، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٤ (١٤٩٩) (صحیح )
1668Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ١ ؎۔

It was narrated that Tawus said: "Ibn Umar said: "A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night. He said: "Two by two, and if you fear that dawn will come, then one."It was narrated that Tawus said: "Ibn Umar said: "A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night. He said: "Two by two, and if you fear that dawn will come, then one."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1667
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہوجائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٣)، الوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣)، التھجد ١٠ (١١٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٩)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣)، مسند احمد ٢/٣٠، ١١٣، ١٤١ (صحیح )
1669Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کرلو ۔

It was narrated from Salim, from his father, that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayers at night are two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one rakah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1668
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٠) (صحیح )
1670Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کرلو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the minbar, when he was asked about prayers at night, say: "Two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one rakah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1669
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٥)، مسند احمد ٣/١٠، ٧٥ (صحیح )
1671Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، قَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہوجانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلے ۔

Ibn Umar told them that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)about prayers at night, and he said: "Two by two, then if one of you fears that dawn will come, let him pray witr with one."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1670
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٦) (صحیح )
1672Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1671
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣١٩)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٨)، مسند احمد ٢/١١٩ (صحیح )
1673Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہوجانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "A man from among the Muslims asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): How are prayers at night to be done? He said: prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1672
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٣٧)، (تحفة الأشراف: ٦٨٤٣) (صحیح )
1674Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قال: أَخْبَرَنِيحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہوجانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayers at night. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1673
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٠)، مسند احمد ٢/١٣٤ (صحیح )
1675Sunan An Nasai

رات کی نماز کس طریقہ سے ادا کی جائے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہوجانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کرلو ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "A man stood up and said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), how are the prayers at night to be done? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1674
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٧٤ (صحیح )
1676Sunan An Nasai

وتر پڑھنے کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھو ١ ؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ali, may Allah (SWT) be pleased with him, said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O people of the Quran, pray witr, for Allah, the Mighty and Sublime, is Witr (One) and loves Al-Witr (the odd numbered)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1675
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں صحابہ ؓ کو اہل قرآن کہا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے تھے بلکہ یہاں اہل قرآن کا مطلب شریعت اسلامیہ کے پیروکار ہیں، اور شریعت قرآن و حدیث دونوں کے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ حدیث کے بغیر صرف قرآن کا۔ ٢ ؎: طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وتر سے مراد قیام اللیل ہے، کیونکہ وتر کا اطلاق قیام اللیل پر بھی ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (الوتر ٢) (٤٥٣، ٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤ (١١٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٥)، مسند احمد ١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٠، ١١٥، ١٢٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٢٠) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مختلط ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، مگر متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤٨٢ )
1677Sunan An Nasai

وتر پڑھنے کے حکم کا بیان

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ali (RA) may Allah (SWT) be pleased with him, said: "Witr is not essential like the obligatory prayers, but it is the sunnah of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1676
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (الوتر ٢) (٥٥٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤، حم ١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٥، ١٤٤، ١٤٥، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦٢٠) (صحیح) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام )
1678Sunan An Nasai

سونے سے قبل وتر پڑھنے کی ترغب کا بیان

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: النَّوْمِ عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے: وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "My dearest friend advised me (to do) three things: To sleep after praying Witr, to fast three days each month, and to pray two rakahs of Fajr."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1677
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیرھویں چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٣٣ (١١٧٨)، الصیام ٦٠ (١٩٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٦١٨)، مسند احمد ٢/٤٥٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٥)، الصوم ٣٨ (١٧٨٦) (صحیح )