ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ١ ؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "My closest friend advised me to do three things: To pray witr at the beginning of the night, to pray two rakahs of Fajr and to fast three days of each month."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1678
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی ؓ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں ۔
It was narrated that Qais bin Talq said: "My father, Talq bin Ali visited me one day in Ramadan and stayed with us until the evening. He led us in praying Qiyam that night and prayed witr with us. Then he went down to a masjid and led his companions in prayer until only witr was left. Then he told a man to go forward and said to him: Lead them in praying witr, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: There should not be two witrs in one night."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1679
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر (صبح) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوجاتے، اگر جنبی ہوتے تو (اپنے اوپر پانی ڈالتے) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔
It was narrated that Al-Aswad bin Yazid said: "I asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: He used to sleep during the first part of the night, then get up during the time before dawn and pray witr. Then he would go to his bed and if he needed to be intimate he would go to his wife. Then when he heard the Adhan he would get up, and if he was junub he would pour water over himself, otherwise he would perform wudu, then he would go out to the prayer."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1680
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر (صبح) تک پہنچ گیا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed witr at the beginning (of the night) and at the end, and in the middle. And toward the end of his life, he settled on performing witr at the end of the night."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1681
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اسی کا حکم دیتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Whoever prays during the night, let him make the last of his prayers at night witr, because the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to enjoin that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1682
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وتر صبح ہونے (فجر نکلنے) سے پہلے پڑھو ۔
Abu Nadrah Al-Awaqi narrated that he heard Abu Saeed Al-Khudri say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about witr and he said: Pray witr before dawn (Subh)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1683
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہوگئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے (اٹھ کر) نماز پڑھی۔
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad Al-Muntashir, from his father, that: He was in the masjid of Amr bin Shurahbil and the iqamah for prayer was said, and they were waiting. He came and said: "I was praying witr." Abdullah was asked: "Is there any witr after the adhan?" He said: "Yes, and after the Iqamah." And he narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) once slept and missed the prayer until the sun had risen, then he prayed.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1685
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that: A man from among the people of the desert asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night. He said:"(It is) two by two, and Witr is one rakah at the end of the night."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1691
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو (طاق) کر دے گی ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayer at night is two by two, then when you want to finish, pray one rakh which will make the total number that you prayed odd."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1692
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہوجانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر (طاق) کر دے گی ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayer at night is two by two, then if one of you fears that dawn will break, pray one rakah to make the total number that he prayed odd."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1694
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کرلو ۔
It was narrated from Ibn Umar that: He heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Prayer at night is two rakahs by two rakahs, then when you fear tat dawn will break, pray witr with one rakah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1695
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔
It was narrated from Aishah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven rakahs at night, ending them with one rakah of witr, then he would lie down on his right side.
صحيح ق لکن ذکر الاضطجاع بعد الوتر شاذ والمحفوظ بعد سنة الفجرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1696
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ١ ؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا (بھی) حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that : He asked Aishah, the Mother of the Believers, about how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray in Ramadan. She said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pray more than eleven rakahs during Ramadan or at any other time. He would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray three." Aishah said: "I said: O Messenger of Allah, do you sleep before you pray witr? He said: O Aishah, my eyes sleep but my heart does not."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1697
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نہی مقصود نہیں بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔ ٢ ؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، واضح رہے کہ یہ بات آپ کی خصوصیات میں سے تھی۔