رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 18 · 220 hadiths · Page 5 of 11

1679Sunan An Nasai

سونے سے قبل وتر پڑھنے کی ترغب کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ١ ؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "My closest friend advised me to do three things: To pray witr at the beginning of the night, to pray two rakahs of Fajr and to fast three days of each month."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1678
Notes · وضاحت
١ ؎: صحاح کی اکثر روایات میں چاشت کی رکعتیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1680Sunan An Nasai

ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قال: زَارَنَا أَبِيطَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمْسَى بِنَا وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ: أَوْتِرْ بِهِمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ.

قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی ؓ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں ۔

It was narrated that Qais bin Talq said: "My father, Talq bin Ali visited me one day in Ramadan and stayed with us until the evening. He led us in praying Qiyam that night and prayed witr with us. Then he went down to a masjid and led his companions in prayer until only witr was left. Then he told a man to go forward and said to him: Lead them in praying witr, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: There should not be two witrs in one night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1679
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٤ (١٤٣٩)، سنن الترمذی/فیہ ٢٢٧ (الوتر ١٣) (٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٤)، مسند احمد ٤/٢٣ (صحیح )
1681Sunan An Nasai

وتر کے وقت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قال: سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر (صبح) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوجاتے، اگر جنبی ہوتے تو (اپنے اوپر پانی ڈالتے) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔

It was narrated that Al-Aswad bin Yazid said: "I asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: He used to sleep during the first part of the night, then get up during the time before dawn and pray witr. Then he would go to his bed and if he needed to be intimate he would go to his wife. Then when he heard the Adhan he would get up, and if he was junub he would pour water over himself, otherwise he would perform wudu, then he would go out to the prayer."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1680
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٥ (١١٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٩)، سنن الترمذی/الشمائل ٣٩ (رقم: ٢٥١)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٩)، مسند احمد ٦/١٠٢، ١٧٦، ٢١٤ (صحیح )
1682Sunan An Nasai

وتر کے وقت کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر (صبح) تک پہنچ گیا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed witr at the beginning (of the night) and at the end, and in the middle. And toward the end of his life, he settled on performing witr at the end of the night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1681
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: خ /الوتر ٢ (٩٩٦)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٨ (الوتر ٤) (٤٥٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢١ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٥٣)، مسند احمد ٦/٤٦، ١٠٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٤، ٢٠٥، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح )
1683Sunan An Nasai

وتر کے وقت کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قال: مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اسی کا حکم دیتے تھے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Whoever prays during the night, let him make the last of his prayers at night witr, because the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to enjoin that."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1682
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥١)، (تحفة الأشراف: ٨٢٩٧)، مسند احمد ٢/٣٩، ١٥٠ (صحیح )
1684Sunan An Nasai

صبح سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وتر صبح ہونے (فجر نکلنے) سے پہلے پڑھو ۔

Abu Nadrah Al-Awaqi narrated that he heard Abu Saeed Al-Khudri say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about witr and he said: Pray witr before dawn (Subh)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1683
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٦ (الوتر ١٢) (٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٢ (١١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٤٣٨٤)، مسند احمد ٣/٤، ١٣، ٣٥، ٣٧، ٧١، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٩) (صحیح )
1685Sunan An Nasai

صبح سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وتر فجر نکلنے سے پہلے پڑھ لو ۔

It was narrated from Au Saeed that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Pray witr before dawn(fajr)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1684
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1686Sunan An Nasai

فجر کی اذان کے بعد وتر پڑھنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِديٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ، قَالَ: وَسُئِلَعَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى.

محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہوگئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے (اٹھ کر) نماز پڑھی۔

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad Al-Muntashir, from his father, that: He was in the masjid of Amr bin Shurahbil and the iqamah for prayer was said, and they were waiting. He came and said: "I was praying witr." Abdullah was asked: "Is there any witr after the adhan?" He said: "Yes, and after the Iqamah." And he narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) once slept and missed the prayer until the sun had risen, then he prayed.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1685
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦١٣ (صحیح الإسناد )
1687Sunan An Nasai

سواری پر وتر پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr on his mount.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1686
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٧٩١) (صحیح )
1688Sunan An Nasai

سواری پر وتر پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ اپنے اونٹ پر وتر پڑھتے تھے، اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

It was narrated from Nafi that : Ibn Umar used to pray witr on his camel and he mentioned that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to do that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1687
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٧) (صحیح )
1689Sunan An Nasai

سواری پر وتر پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قال: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ.

سعید بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔

It was narrated that Saeed bin Yasir said: "Ibn Umar said to me that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr on a camel."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1688
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٩) مطولاً، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٨ (٤٧٢) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٧ (١٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٥)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٥)، مسند احمد ٢/٧، ٥٧، ١١٣، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣ (١٦٣١) (صحیح )
1690Sunan An Nasai

رکعات وتر کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔

It was narrated fom Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Witr is one rakah at the end of the night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1689
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٢، ٧٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٦ (١١٧٥)، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٨)، مسند احمد ١/٣١١، ٣٦١، ٢/٤٣، ٥١ (صحیح )
1691Sunan An Nasai

رکعات وتر کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَمُحَمَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Witr is one rakah at the end of the night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1690
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1692Sunan An Nasai

رکعات وتر کا بیان

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَفَّانَ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ: مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that: A man from among the people of the desert asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night. He said:"(It is) two by two, and Witr is one rakah at the end of the night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1691
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٧)، مسند احمد ٢/٤٠، ٥٨، ٧١، ٧٦، ٧٩، ١٠٠ (صحیح )
1693Sunan An Nasai

ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو (طاق) کر دے گی ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayer at night is two by two, then when you want to finish, pray one rakh which will make the total number that you prayed odd."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1692
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٤) (صحیح )
1694Sunan An Nasai

ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر ایک رکعت ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Prayer at night is two by two, and witr is one rakah."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1693
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٥٧) (صحیح الإسناد )
1695Sunan An Nasai

ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہوجانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر (طاق) کر دے گی ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about prayer at night and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Prayer at night is two by two, then if one of you fears that dawn will break, pray one rakah to make the total number that he prayed odd."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1694
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٥)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣) (صحیح )
1696Sunan An Nasai

ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَنَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتُمُ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کرلو ۔

It was narrated from Ibn Umar that: He heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Prayer at night is two rakahs by two rakahs, then when you fear tat dawn will break, pray witr with one rakah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1695
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٧٠ (صحیح )
1697Sunan An Nasai

ایک رکعت وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔

It was narrated from Aishah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eleven rakahs at night, ending them with one rakah of witr, then he would lie down on his right side.

صحيح ق لکن ذکر الاضطجاع بعد الوتر شاذ والمحفوظ بعد سنة الفجرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1696
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٢٦)، الوتر ١ (٩٩٤)، التھجد ٣ (١١٢٣)، ٢٣ (١١٦٠)، الدعوات ٥ (٦٣١٠) صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٤١)، الشمائل ٣٩ (٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٦ (١١٩٨)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٨)، مسند احمد ٦/٣٥، ١٨٢، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٥ (١٥١٤)، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٧٢٧ (صحیح )
1698Sunan An Nasai

تین رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًاقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ١ ؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا (بھی) حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that : He asked Aishah, the Mother of the Believers, about how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray in Ramadan. She said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pray more than eleven rakahs during Ramadan or at any other time. He would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray three." Aishah said: "I said: O Messenger of Allah, do you sleep before you pray witr? He said: O Aishah, my eyes sleep but my heart does not."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1697
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نہی مقصود نہیں بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔ ٢ ؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، واضح رہے کہ یہ بات آپ کی خصوصیات میں سے تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٦ (١١٤٧)، التراویح ١ (٢٠١٣)، المناقب ٢٤ (٣٥٦٩)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٤١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٩) موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٩)، مسند احمد ٦/٣٦، ٧٣، ١٠٤ (صحیح )