عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Sad bin Hisham, that: Aishah told him: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would not say the taslim for two rakahs during witr."
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1698
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ وتر تین رکعت پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الأعلى دوسری رکعت میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو اللہ أحد پڑھتے، اور دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے، پھر جب (وتر سے) فارغ ہوجاتے تو فراغت کے وقت تین بار: سبحان الملک القدوس کہتے، اور ان کے آخر میں کھینچتے۔
It was narrated from Ubayy bin Kab that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with three rakahs. In the first he would recite: "Glorify the Name of Your Lord, the Most High" in the second: "Say: O you disbelievers!", and in the third: "Say: He is Allah, (the) One". And he would say the Qunut before bowing, and when he finished he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating the words the last time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1699
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٣) (وعندہ ” قل للذین کفروا “ و ” اللہ الواحد الصمد “ )، ٣٤١ (١٤٣٠) سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٤، ٥٥)، مسند احمد ٥/١٢٣، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٧٠١، ١٧٠٢، ١٧٣٠، ١٧٣١ (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الأعلى دوسری رکعت میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو اللہ أحد پڑھتے۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "In the first rakah of witr, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite: "Glorify the Name of your Lord, the Most High;" in the second; "Say: O you disbelievers!" and in the third; "Say: He is Allah, (the) One."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1700
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ وتر میں (پہلی رکعت میں) سبح اسم ربک الأعلى دوسری رکعت میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو اللہ أحد پڑھتے، اور ان کے بالکل آخر ہی میں سلام پھیرتے، اور تین بار: سبحان الملک القدوس کہتے (یعنی سلام پھیرنے کے بعد) ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite: "Glorify the Name of Your Lord, the Most High;" in witr, in the second rakah he would recite: "Say: O you disbelievers!"; and in the third "Say: He is Allah, (the) One". And he only said the taslim at the end, and he would say- meaning after the taslim: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1701
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے، پہلی میں سبح اسم ربک الأعلى دوسری میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو اللہ أحد پڑھتے۔ زہیر نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت اس کے بعد آرہی ہے) ۔
Zakariyya bin Abi Zaidah narrated from Abu Ishaq, from Said bin Jubair, that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with three rakahs. In the first he would recite "Glorify the Name of Your Lord, the Most High;" in the second: "Say: O You disbelievers!" and in the third: "Say: He is Allah, (the) One."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1702
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ وتر کی تینوں رکعتوں میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے۔
Zuhair narrated from Abu Ishaq, from Saeed bin Jubair, : Ibn Abbas used to pray witr with three: (Reciting): Glorify the Name of Your Lord, the Most High;" "Say: O You disbelievers!" and: "Say: He is Allah, (the) One."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1703
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھے اور مسواک کی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر سو گئے، (دوبارہ) آپ پھر اٹھے، اور مسواک کی، پھر وضو کیا، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ نے چھ رکعتیں پڑھیں، پھر تین رکعتیں وتر کی اور دو رکعتیں (فجر کی) پڑھیں۔
Sufyan narrated from Habib bin Abi Thabit, from Muhammad bin Ali, from his father, from his grandfather, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got up at night and cleaned his teeth, then he prayed two rakahs, then he slept. Then he got up and cleaned his teeth, then he performed wudu and prayed two rakahs, until he had prayed six. Then he prayed witr with three rakahs, and prayed two rakahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1704
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الطھارة ٣٠ (٥٨)، الصلاة ٣١٦ (١٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧)، مسند احمد ١/٣٥٠، ٣٧٣ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا، آپ نیند سے بیدار ہوئے، آپ نے وضو کیا، مسواک کی، آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے: إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں (آل عمران: ١٩٠ ) یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ واپس آئے، اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ اٹھے، اور وضو کیا، مسواک کی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور تین رکعت وتر پڑھی۔
Husain narrated from Habib bin Abi Thabit, from Muhammad bin Ali bin Abdullah bin Abbas, from his father, that his grandfather said: "I was with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he got up and performed wudu, cleaned his teeth while reciting this verse until he finished: Verily, in the creation of the heavens and the Earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding. Then he prayed two rakahs, then he went back and slept until I heard him breathing deeply. Then he got up and performed wudu and cleaned his teeth. Then he prayed two rakahs, then he slept, then he got up and performed wudu and cleaned his teeth and prayed two rakahs and prayed witr with three rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1705
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو آپ نے مسواک کی، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Ubaidullah binAmr bin Zaid narrated from Habib bin Abi Thabit, from Muhammad bin Ali that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) woke up and cleaned his teeth, and he quoted the Hadith.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1706
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور تین رکعت وتر پڑھتے، اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے پڑھتے۔ عمرو بن مرہ نے حبیب کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن الجزار سے اور یحییٰ جزار نے ام سلمہ ؓ سے، اور ام سلمہ ؓ نے رسول ﷺ سے روایت کی ہے، (یعنی اس کو مسند ابن عباس ؓ کے بجائے مسند ام سلمہ ؓ میں سے قرار دیا ہے۔
Abu Bakr An-Nahshali narrated from Habib bin Abi Thabit, from Yahya bin Al-Jazzar, that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray eight rakahs at night and pray witr with three, and pray two rakahs before Fajr."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1707
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٤٧)، مسند احمد ١/٢٩٩، ٣٠١، ٣٢٦ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے۔ (یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ ؓ میں سے قرار دیا ہے۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with thirteen rakahs, and when he grew older and weaker he prayed witr with nine."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1708
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٩ (الوتر ٥) (٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٥)، مسند احمد ٦/٣٢٢، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٧٢٨ (صحیح الإسناد )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، جب آپ بوڑھے اور (گوشت چڑھ جانے کی وجہ سے) بھاری بھر کم ہوگئے تو (صرف) سات رکعتیں پڑھنے لگے۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray nine (rakahs) at night, then when he grew older and put on weight he prayed seven."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1709
دوید بن نافع نے زہری سے، اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء بن یزید نے ابوایوب ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
Duwaid bin Nafi said: " Ibn Shihab informed me, saying: Ata bin Yazid narrated to me from Abu Ayyub: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Witr is a duty, and whoever wants to pray witr with seven (rakahs), let him do so; whoever wants to pray witr with five, let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1710
اوزاعی نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء نے ابوایوب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
Al-AwzaI said: "Az-Zuhri narrated to me, he said: Ata bin Yazid, from Abu Ayyub: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Witr is a duty, and whoever wants to pray witr with seven (rakahs), let him do so; whoever wants to pray witr with five, let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1711
ابومعید نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ کو کہتے سنا: وتر حق ہے، جو پانچ رکعت پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔
Abu Muaid narrated from Az-Zuhri, who said: "Ata bin Yazid narrated to me that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say: Witr is a duty, so whoever wants to pray witr with five rakahs let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1712
سفیان زھری سے روایت کرتے ہیں، اور زہری عطاء بن یزید سے، اور عطاء ابوایوب سے، ابوایوب ؓ کہتے ہیں جو چاہے وتر سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے، اور جو اشارے سے پڑھنا چاہے اشارے سے پڑھے (یعنی بیمار آدمی) ۔
Sufyan narrated from Az-Zuhri, from Ata bin Yazid, from Abu Ayyub, who said: "Whoever wants to pray witr with seven (rakahs) let him do so, and whoever wants to pray witr with five (rakahs) let him do so, and whoever wants to pray witr with three rakahs, let him do so; and whoever wants to pray witr with one rakah, let him do so, and wants to do so gesturing, let him do so."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1713
منصور روایت کرتے ہیں حکم سے، اور وہ مقسم سے اور مقسم ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پانچ یا سات رکعت وتر پڑھتے، اور ان کے درمیان آپ سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے اور نہ کلام کے ذریعہ۔
Mansur reported from Al-Hakam, from Miqsam, that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with five and seven rakahs which he did not separate with any taslim nor talk."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1714
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٣ (١١٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢١٤)، مسند احمد ٦/٢٩٠، ٣١٠، ٣٢١ (صحیح )
منصور حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس ؓ سے اور ابن عباس ؓ ام سلمہ ؓ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے۔
Mansur reported from Al-Hakam, from Miqsam, from Ibn Abbas that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with seven or five (rakahs), not separating between them with the taslim."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1715
سفیان بن الحسین حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے، مقسم کہتے ہیں کہ وتر سات رکعت ہے اور پانچ سے کم نہیں، میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: انہوں نے اسے کس کے واسطہ سے ذکر کیا ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، حکم کہتے ہیں: پھر میں حج کو گیا تو میں نے مقسم سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک ثقہ شخص سے ١ ؎، اور اس نے عائشہ ؓ اور میمونہ ؓ سے سنی ہے۔
Sufyan bin Al-Husain narrated from Al-Hakam that Miqsam said: "Witr is seven and no less than five." I mentioned that to Ibrahim and he said: "From whom did he quote that?" I said: "I do not know." Al-Hakam said: "Then I performed Hajj and I met Miqsam and said to him: From whom (did you narrate that)? He said: From the trustworthy one, from Aishah and from Maimunah."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1716
Notes · وضاحت
١ ؎: غالباً ثقہ شخص سے مراد ابن عباس ؓ ہیں کیونکہ مقسم برابر انہیں سے چمٹے رہتے تھے، اور انہوں نے ولاء کی نسبت بھی انہیں کی طرف کی ہے، یا عن عائشہ وعن میمونہ عن الثقۃ سے بدل ہے ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ثقہ سے سنی ہے یعنی عائشہ اور میمونہ سے سنی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٨)، مسند احمد ٦/٣٣٥ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔
Hisham bin Urwah narrated from his father, from Aishah, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with five and he did not sit except in the last (rakah) of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1717
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٧)، مسند احمد ٦/١٢٣، ١٦١، ٢٠٥ (صحیح )