پانچ رکعات وتر پڑھنے کا طریقہ اور حکم کے متعلق وتر کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ، وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔
Hisham bin Urwah narrated from his father, from Aishah, that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray witr with five and he did not sit except in the last (rakah) of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1717
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٧)، مسند احمد ٦/١٢٣، ١٦١، ٢٠٥ (صحیح )