عبداللہ بن عباس ؓ سے اسی جیسی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی۔
Narrated Ibn Abbas: A similar report was narrated from Ibn Abbas. The price of a shield at the time of the Messenger of Allah ﷺ was estimated to be ten Dirhams.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4951
عطاء کہتے ہیں: کم سے کم جس میں ہاتھ کاٹا جائے گا ڈھال کی قیمت ہے، اور ڈھال کی قیمت اس وقت دس درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ایمن جن کی حدیث ہم نے اوپر ذکر کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صحابی تھے، ان سے ایک حدیث اور مروی ہے جو ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے، (جو آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Ata said: "The least for which the hand of a thief is to be cut off is the price of a shield. And the price of a shield in those days was ten Dirhams." (Hasan) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Ayman, the one whose narrations preceded, I do not think he was a Companion, and another Hadith has been related from him which proves what we have said.
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا) ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی۔
It was narrated that Kab said: "Whoever performs wudu and performs wudu, well, then prays (Abdur-Rahman said: and prays Isha), then prays after that four Rakahs and does them well (Sawwar said: and understands what he is reciting (Sawwar said: and recites therein), they will be equivalent to (praying) Lailat Al-Qadr for him". (Hasan Maqtu)
مقطوع موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4954
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٤٩، ١٩٢٤١) (ضعیف) (اس کے راوی ” ایمن “ مجہول ہیں )
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر اسی جیسی چار رکعتیں قرأت اور رکوع، سجدہ کے اتمام کے ساتھ پڑھیں، تو اسے شب قدر جیسا اجر ملے گا۔
It was narrated that Kab said: "Whoever performs Wudu and performs Wudu well, then attends Isha prayer in congregation, then prays four similar Rakahs after that, reciting therein and bowing and prostrating perfectly, that will bring him a reward like that of (praying) Lailat Al-Qadar." (Hasan Maqtu)
مقطوع موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4955
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ڈھال کی قیمت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دس درہم تھی۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The price of a shield at the time of the Messenger of Allah ﷺ was ten Dirhams.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4956
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٩١) (شاذ) (سند حسن ہے، مگر صحیح احادیث کے خلاف ہے )
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ہاتھ کتنے میں کاٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: درخت پر لگے پھل میں نہیں کاٹا جائے گا، لیکن جب وہ کھلیان میں پہنچا دیا جائے تو ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں میں کاٹا جائے گا البتہ جب وہ اپنے رہنے کی جگہ میں آجائیں تو ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked: For how much is the hand (of the thief) to be cut off? He said: The hand (of the thief) is not to be cut off for (stealing) fruit on the tree, but if (the fruit) has been taken to the place where it is stored to dry, then the (thiefs) hand is to be cut off (if what is stolen is equivalent to) the price of a shield. The (thiefs) hand is not to be cut off for a sheep (stolen) from the grazing land, but if it had been put in the pen, then the (thiefs) hand is to be cut off (if what is stolen is equivalent to) the price of a shield.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4957
Notes · وضاحت
١ ؎: درخت پر لگے پھلوں اور میدان میں چرتے جانوروں کی چوری پر ہاتھ اس لیے نہیں کاٹا جائے گا کہ یہ سب حرز ( محفوظ مقام ) میں نہیں ہوتے، کھلیان اور باڑہ حرز ( محفوظ مقام ) ہوتے ہیں، یہاں سے چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس ضرورت مند نے اسے کھالیا اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہے، اور جو اسے کھلیان میں جمع کیے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather Abdullah bin Amr, that the Messenger of Allah ﷺ wsa asked about fruit on the tree. He said: "Whatever a needy person takes without putting any in his pocket (and taking it away), there is no penalty on him. But whoever takes anything away, he must pay a penalty of twice its value, and be punished. Whoever steals something after it has been stored properly, and its value is equal to that of a shield, his hand must be cut off. Whoever steals something worth less than that, he must pay a penalty of twice its value and be punished.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4958
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ مزینہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے (چوری ہونے کے) بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اگر کوئی ایسا جانور چوری کرے) تو اسے وہ جانور اور اس کے مثل ایک اور جانور دینا ہوگا اور سزا الگ ہوگی، لیکن چرنے والے جانوروں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ جانور اپنے رہنے کی جگہ میں لوٹ آئے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچی ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہوگا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے۔ وہ بولا: اللہ کے رسول! درخت میں لگے پھلوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کی چوری کرنے پر) وہ پھل اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور پھل دینا ہوگا اور سزا الگ ہوگی۔ لیکن درخت پر لگے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا سوائے اس صورت میں کہ وہ کھلیان تک لایا جا چکا ہو۔ لہٰذا جو کچھ وہ کھلیان سے لے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس میں دوگنا تاوان ہوگا اور سزا کے کوڑے الگ ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather Abdullah bin Amr, that a man from Muzainah came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, what do you think about a sheep stolen from the pasture?" He said: "(The thief must pay) double and be punished. There is no cutting off of the hand for (stealing) livestock, except what which has been put in the pen, if its value is equal to that of a shield, in which case the (thiefs) hand is to be cut off. If its value is not equal to that of a shield, then he should pay a penalty of twice its value and be flogged as a punishment." He said: "O Messenger of Allah! What do you think about fruit on the tree?" He said: "(The thief must pay) double and be punished. There is no cutting off of the hand for (stealing) fruit on the tree, except for that which has been stored properly if its value is equal to that of a shield, in which case the (thiefs) hand is not equal to that of a shield, then he should pay a penalty of twice its value and be flogged as a punishment.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4959
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ درخت کی کھجوریں اور گا بے حرز میں نہیں ہوتے۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: نہ پھلوں کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گا بے کے چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4960
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نہ پھل میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گا بے کے چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4961
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نہ پھل کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ گا بے کے چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4962
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھل کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا نہ گا بے کے چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4963
رافع بن خدیج ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہ پھل کے چرانے میں اور نہ گا بے کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4964
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ پھل کے چرانے میں، اور نہ ہی گا بے کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4965
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ پھل چرانے میں اور نہ گا با چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4966
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٨)، موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢) سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥١، ٢٣٥٢)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٩٧٠-٤٩٧٣) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: نہ پھل چرانے میں اور نہ کثر چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ، اور کثر کھجور کے گا با (خوشہ) کو کہتے ہیں۔
Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4967
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھل چرانے میں، اور نہ ہی گا با چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، میں ابومیمون کو نہیں جانتا ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is a mistake, and I do not know who Abu Maimun (one of the narrators) is.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4968
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نہ پھل چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، نہ گا با چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4969
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٩٦٩(صحیح) (اس کی سند میں مبہم راوی ” واسع “ محمد بن یحییٰ کے چچا ہی ہیں )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا: نہ تو پھل چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ ہی گا با چرانے میں ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4970