زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاق هُوَ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَأَتَمَّ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يُتِمُّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَيَعْلَمُ مَا يَقْتَرِئُ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يَقْرَأُ فِيهِنَّ كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا) ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی۔
It was narrated that Kab said: "Whoever performs wudu and performs wudu, well, then prays (Abdur-Rahman said: and prays Isha), then prays after that four Rakahs and does them well (Sawwar said: and understands what he is reciting (Sawwar said: and recites therein), they will be equivalent to (praying) Lailat Al-Qadr for him". (Hasan Maqtu)