Sunan An Nasai 4987

چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ

4987Sunan An Nasai

چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُغَرَّمُ صَاحِبُ سَرِقَةٍ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا مُرْسَلٌ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حد قائم ہوجائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ مرسل (یعنی منقطع) ہے اور صحیح نہیں ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Awf that the Messenger of Allah ﷺ said: "The thief is not to be penalized (financially) if the Hadd punishment is carried out on him." (Daif) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Mursal and it is not confirmed.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4984
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابوحنیفہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے، لیکن یہ حدیث منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جمہور کے نزدیک حد قائم ہونے کے باوجود مسروقہ مال کا تاوان لیا جائے گا کیونکہ ایک مسلم کا مال دوسرے مسلم پر بغیر جائز اسباب کے حرام ہے ( جائز اسباب یعنی : خرید، ہدیہ و ہبہ، وراثت، مشاہرہ وغیرہ ) اس لیے چور سے لے کر چوری کا مال صاحب مال کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر موجود ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تاوان لیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں مسور اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان انقطاع ہے ۔ )