آیت|"قالت الاعراب اٰمنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا|" کی تفسیر
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.
بشر بن سحیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق ( ١٠ ، ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذی الحجہ) میں اعلان کردیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہوگا ١ ؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ٢ ؎۔
It was narrated from Bishr bin Suhaim that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded him to call out on the days of At-Tashriq that no one would enter Paradise except a believer, and that these were the days of eating and drinking.