Sunan An Nasai 5011

کتاب ایمان اور اس کے ارکان

5011Sunan An Nasai

اہل ایمان کا ایک دوسرے سے بڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے ١ ؎۔

Abu Saeed said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever among you sees an evil, let him change it with his hand; if he cannot, then with his tongue; if he cannot, then with his heart- and that is the weakest of Faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5008
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے یعنی جو دل کے ذریعہ برائی کو ختم کرے گا وہ ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو دور کرنے والے سے ایمان میں کم ہوگا اور دل کے ذریعہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا جانے اور اس سے دور رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٨ (١١٤٠)، الملاحم ١٧ (٤٣٤٠)، سنن الترمذی/الفتن ١١ (٢١٧٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٥ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، مسند احمد (٣/١٠، ٢٠، ٤٩، ٥٤، ٩٢) (صحیح )