بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3296
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨) تعلیقًا، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٦٥) مطولا، سنن الترمذی/النکاح ٣١ (١١٢٦) مطولا، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٩)، مسند احمد (٢/٤٢٦، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح )