بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الشَّعْبِيِّكِتَابًا فِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، قَالَ: سَمِعْتُ هَذَا مِنْ جَابِرٍ.
شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جاسکتی تو شعبی نے کہا: میں نے یہ حدیث جابر ؓ سے سنی ہے۔
Asim said: "I read a book to Ash-Shabi in which it was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt. He said: I heard that from Jabir.